Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ نہم (9)
305 - 466
    اﷲ (عزوجل) تمھاری غلط فہمی کی قسموں پر تم سے مؤاخذہ نہیں کرتا ہاں اون قسموں پر گرفت فرماتاہے جنھیں تم نے مضبوط کیا تو ایسی قسموں کاکفارہ دس مسکین کو کھانا دینا ہے اپنے گھر والوں کو جو کھلاتے ہو اوس کے اوسط میں سے یا اونھیں کپڑا دینا یا ایک غلام آزاد کرنا اور جوان میں سے کسی بات پر قدرت نہ رکھتا ہو وہ تین دن کے روزے رکھے یہ تمھاری قسموں كا کفارہ ہے جب قسم کھاؤ۔ اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو اسی طرح اﷲ (عزوجل) اپنی نشانیاں تمھارے لیے بیان فرماتا ہے تاکہ تم شکر کرو۔
مسائل فقہیّہ
    یہ تو معلوم ہوچکا کہ قسم توڑنے سے کفارہ لازم آتا ہے۔ اب یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ قسم توڑنے کا کیاکفارہ ہے اور اوس کی کیا کیا صورتیں ہیں، لہٰذا اب اوس کے احکام کی تفصیل سنیے: 

    مسئلہ ۱: قسم کا کفارہ غلام آزاد کرنا یا دس ۱۰ مسکینوں کو کھانا کھلانا یا اون کو کپڑے پہنانا ہے یعنی یہ اختیار ہے کہ ان تین باتوں میں سے جو چاہے کرے۔ (1)

    مسئلہ ۲: غلام آزاد کرنے یا مساکین کو کھانا کھلانے میں اون تمام باتوں کی جو کفارہ ظہار میں مذکور ہوئیں یہاں بھی رعایت کرے مثلاً کس قسم کا غلام آزاد کیا جائے کہ کفارہ ادا ہواور کیسے غلام کے آزاد کرنے سے ادا نہ ہوگا اور مساکین کو دونوں وقت پیٹ بھر کر کھلانا ہوگااور جن مساکین کو صبح کے وقت کھلایا اونھیں کو شام کے وقت بھی کھلائے دوسرے دس ۱۰ مساکین کو کھلانے سے ادانہ ہوگا۔ اور یہ ہوسکتا ہے کہ دسوں کو ایک ہی دن کھلادے یا ہرروزایک ایک کو یا ایک ہی کو دس دن تک دونوں وقت کھلائے۔ اور مساکین جن کو کھلایا ان میں کوئی بچہ نہ ہو اور کھلانے میں اباحت(2) و تملیک(3) دونوں صورتیں ہوسکتی ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کھلانے کے عوض ہر مسکین کو نصف صاع گیہوں یا ایک صاع (4)جَو یا ان کی قیمت کا مالک کردے یا دس ۱۰ روز تک ایک ہی مسکین کو ہر روز بقدر صدقہ فطر دیدیا کرے یا بعض کو کھلائے اور بعض کو دیدے۔ غرض یہ کہ اوس کی تمام صورتیں وہیں سے معلوم کریں فرق اتنا ہے کہ وہاں ساٹھ ۶۰ مسکین تھے یہاں دس ۱۰ ہیں۔ (5)
    مسئلہ ۳: کپڑے سے وہ کپڑا مراد ہے جو اکثر بدن کو چھپا سکے اور وہ کپڑا ایسا ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔۔۔۔۔۔''تبیین الحقائق''،کتاب الأیمان ،ج ۳ ،ص۴۳۰.

2۔۔۔۔۔۔کھانے کی اجازت دے دینا۔

3۔۔۔۔۔۔مالک بنادینا۔

4۔۔۔۔۔۔ ایک صاع تقریباً 4کلو100گرام کاہوتاہے اورنصف صاع تقریباً2کلو50گرام کا ہوتاہے۔

5۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الأیمان ،مطلب: کفارۃ الیمین ، ج ۵ ، ص ۵۲۳.
Flag Counter