جس کو متوسط درجہ کے لوگ پہنتے ہوں اور تین مہینے سے زیادہ تک پہنا جاسکے، لہٰذا اگر اتنا کپڑا ہے جو اکثر بدن کو چھپانے کے لیے کافی نہیں مثلاً صرف پاجامہ (1) یاٹوپی یا چھوٹا کرتا(2)۔ یوہیں ایسا گھٹیا کپڑا دینا جسے متوسط لوگ نہ پہنتے ہوں ناکافی ہے۔ یوہیں ایساکمزور کپڑا دینا جو تین ماہ تک استعمال نہ کیا جاسکتا ہو، جائزنہیں۔(3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴: کپڑے کی جو مقدار ہونی چاہیے اوس کا نصف دیا اور اس کی قیمت نصف صاع گیہوں (4)یا ایک صاع جَو کے برابر ہے تو جائز ہے۔ یوہیں ایک کپڑا دس ۱۰ ہی مسکینوں کو دیا جو تقسیم ہوکر ہر ایک کو اتنا ملتاہے جس کی قیمت صدقہ فطرکے برابرہے تو جائز ہے۔ یوہیں اگرمسکین کو پگڑی دی اور وہ کپڑا اتنا ہے جس کی مقدار مذکور ہوئی یا اوس کی قیمت صدقہ فطر کے برابر ہے تو جائز ہے، ورنہ نہیں۔ (5)(مبسوط وغیرہ)
مسئلہ ۵: نیا کپڑا ہونا ضروری نہیں پُرانا بھی دیا جاسکتا ہے جبکہ تین مہینے سے زیادہ تک استعمال کرسکتے ہوں اور نیا ہو مگر کمزور ہوتوجائز نہیں۔ (6)(ردالمختار)
مسئلہ ۶: عورت کو اگر کپڑا دیا تو سر پر باندھنے کا رومال یا دوپٹا بھی دینا ہوگا کیونکہ اوسے سر کا چھپانا بھی فرض ہے۔ (7)(ردالمحتار)
مسئلہ ۷: پانچ مسکینوں کو کھانا کھلایا اور پانچ کو کپڑے دیدیے اگر کھانا کپڑے سے سستاہے یعنی ہر مسکین کا کپڑا ایک کھانے سے زیادہ یا برابر قیمت کا ہے تو جائز ہے یعنی یہ کپڑے پانچ کھانے کے قائم مقام ہوکر کل کھانا دینا قرارپائیگا اور اگرکپڑا کھانے سے ارزاں(8) ہو تو جائز نہیں مگر جبکہ کھانے کا مساکین کو مالک کردیا ہو تو یہ بھی جائز ہے یعنی یہ کھانے پانچ مساکین کے کپڑے کے برابر ہوئے تو گویا دسوں کو کپڑے دیے۔ (9)(ردالمحتار)