Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ نہم (9)
299 - 466
جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائی یعنی مثلاً جس کے آنے کی نسبت جھوٹی قسم کھائی تھی یہ خود بھی جانتا ہے کہ نہیں آیاہے تو ایسی قسم کو غموس کہتے ہیں۔ اور اگر اپنے خیال سے تو اوس نے سچی قسم کھائی تھی مگر حقیقت میں وہ جھوٹی ہے مثلاً جانتاتھا کہ نہیں آیا اور قسم کھائی کہ نہیں آیا اور حقیقت میں وہ آگیا ہے تو ایسی قسم کو لغوکہتے ہیں۔ اور اگر آئندہ کے لیے قسم کھائی مثلاً خداکی قسم میں یہ کام کروں گا یا نہ کروں گا تو اس کو منعقدہ کہتے ہیں۔ (1) جب ہرایک کو خوب جان لیا تو ہر ایک کے اب احکام سنیے: 

    مسئلہ ۲: غموس میں سخت گنہگار ہوا استغفار و توبہ فرض ہے مگر کفارہ لازم نہیں اور لغو میں گناہ بھی نہیں اور منعقدہ میں اگر قسم توڑے گا کفارہ دینا پڑے گا اور بعض صورتوں میں گنہگار بھی ہوگا۔(2) (درمختار ،عالمگیری وغیرہما) 

    مسئلہ ۳: بعض قسمیں ایسی ہیں کہ اون کا پورا کرنا ضروری ہے مثلاً کسی ایسے کام کے کرنے کی قسم کھائی جس کا بغیر قسم کرنا ضروری تھا یا گناہ سے بچنے کی قسم کھائی تو اس صورت میں قسم سچی کرناضرورہے۔ مثلاً خدا کی قسم ظہر پڑھوں گا یا چوری یا زنا نہ کروں گا۔ دوسری وہ کہ اوس کا توڑنا ضروری ہے مثلاً گناہ کرنے یا فرائض و واجبات نہ کرنے کی قسم کھائی جیسے قسم کھائی کہ نماز نہ پڑھوں گا یا چوری کروں گا یا ماں باپ سے کلام نہ کروں گا تو قسم توڑ دے۔ تیسری وہ کہ اوس کا توڑنا مستحب ہے مثلاً ایسے امر(3) کی قسم کھائی کہ اوس کے غیر میں بہتری ہے تو ایسی قسم کو توڑ کروہ کرے جو بہتر ہے۔ چوتھی وہ کہ مباح کی قسم کھائی یعنی کرنا اور نہ کرنا دونوں یکساں ہیں اس میں قسم کا باقی رکھنا افضل ہے۔ (4)(مبسوط) 

    مسئلہ ۴: منعقدہ جب توڑے گا کفارہ لازم آئیگا اگرچہ اوس کا توڑنا شرع (5)نے ضروری قراردیا ہو۔ (6)

    مسئلہ ۵: منعقدہ تین قسم ہے: (1)یمین فور۔(2)مرسل۔(3)موقت۔ اگر کسی خاص وجہ سے یا کسی بات کے جواب میں قسم کھائی جس سے اوس کا م کا فوراً کرنایا نہ کرنا سمجھا جاتاہے اوس کو یمین فور کہتے ہیں۔ ایسی قسم میں اگر فوراً وہ بات ہوگئی تو قسم ٹوٹ گئی اور اگر کچھ دیر کے بعد ہو تو اس کا کچھ اثر نہیں مثلاً عورت گھر سے باہر جانے کا تہیہ کررہی ہے اوس نے کہا اگر تو گھر سے باہرنکلی تو تجھے طلاق ہے اوس وقت عورت ٹھہرگئی پھر دوسرے وقت گئی تو طلاق نہیں ہوئی یا ایک شخص کسی کو مارنا چاہتا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الأیمان ، ج ۵،ص۴۹۲۔۴۹۶.

و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان ، الباب الاول فی تفسیرہاشرعاً...إلخ ،ج ۲ ، ص ۵۲.

2۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان ، الباب الاول فی تفسیرہاشرعاً...إلخ ،ج ۲ ، ص ۵۲.

و''الدرالمختار''،کتاب الأیمان، ج ۵ ،ص۴۹۲ ۔۴۹۷وغیرہما. 

3۔۔۔۔۔۔ معاملہ،کام۔

4۔۔۔۔۔۔'' المبسوط''للسرخسي،کتاب الأیمان،ج۴، الجزء الثامن، ص۱۳۳،۱۳۴.

5۔۔۔۔۔۔ شریعت۔

6۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان ، الباب الاول فی تفسیرہاشرعاً...إلخ ،ج ۲،ص ۵۲.
Flag Counter