| بہارِشریعت حصّہ نہم (9) |
رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''خدا کی قسم! انشاء اﷲتعالیٰ میں کوئی قسم کھاؤں اور اوسکے غیر میں بھلائی دیکھوں تو وہ کام کرونگا جو بہترہے اور قسم کا کفارہ دیدونگا۔'' (1)
حدیث ۱۰: امام مسلم و امام احمد و ترمذی ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جو شخص قسم کھائے اور دوسری چیز اوس سے بہتر پائے توقسم کا کفارہ دیدے اور وہ کام کرے۔'' (2)
حدیث ۱۱: صحیحین میں اونھیں سے مروی، حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: ''خدا کی قسم! جو شخص اپنے اہل کے بارے میں قسم کھائے اور اوس پر قائم رہے تو اﷲ (عزوجل) کے نزدیک زیادہ گنہگار ہے، بہ نسبت اس کے کہ قسم توڑ کر کفارہ دیدے۔'' (3)
حدیث ۱۲: قسم اوس پر محمول ہوگی، جو قسم کھلانے والے کی نیت میں ہو۔ (4)مسائل فقہیہ
قسم کھانا جائز ہے مگر جہاں تک ہو کمی بہتر ہے اور بات بات پر قسم کھانی نہ چاہیے اور بعض لوگوں نے قسم کو تکیہ کلام بنا رکھاہے (5) کہ قصد و بے قصد(6) زبان سے جاری ہوتی ہے اور اس کابھی خیال نہیں رکھتے کہ بات سچی ہے یا جھوٹی یہ سخت معیوب ہے (7)اور غیر خدا کی قسم مکروہ ہے اور یہ شرعاً قسم بھی نہیں یعنی اس کے توڑنے سے کفارہ لازم نہیں۔ (8)(تبیین وغیرہ)
مسئلہ ۱: قسم کی تین قسم ہے(۱)غموس۔(۲)لغو۔(۳) منعقدہ۔ اگر کسی ایسی چیز کے متعلق قسم کھائی جو ہوچکی ہے یا اب ہے یا نہیں ہوئی ہے یا اب نہیں ہے مگروہ قسم جھوٹی ہے مثلاً قسم کھائی فلاں شخص آیا اور وہ اب تک نہیں آیا ہے یا قسم کھائی کہ نہیں آیا اور وہ آگیا ہے یا قسم کھائی کہ فلاں شخص یہ کام کر رہا ہے اور حقیقتہً وہ اس وقت نہیں کر رہا ہے یا قسم کھائی کہ یہ پتھر ہے اور واقع میں وہ پتھر نہیں، غرض یہ کہ اس طرح جھوٹی قسم کی دوصورتیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 1۔۔۔۔۔۔''صحیح مسلم''،کتاب الأیمان، باب ندب من حلف یمینًا ...إلخ، الحدیث:۷۔(۱۶۴۹)، ص ۸۹۵. 2۔۔۔۔۔۔''صحیح مسلم''،کتاب الأیمان، باب ندب من حلف یمیناً ...إلخ، الحدیث: ۱۱۔(۱۶۵۰)، ص ۸۹۷. 3۔۔۔۔۔۔''صحیح البخاری''،کتاب الأیمان،باب قول اللہ تعالٰی،الحدیث ۶۶۲۵،ج۴ص۲۸۱. 4۔۔۔۔۔۔''سنن ابن ماجہ''،کتاب الکفارات، باب من ورّی فی یمینہ ،الحدیث۲۱۲۰،ج۲،ص۵۵۱. 5۔۔۔۔۔۔ یعنی دورانِ گفتگوباربارقسم کھانے کی عادت بنارکھی ہے۔ 6۔۔۔۔۔۔ارادتاً اوربغیرارادہ کے۔ 7۔۔۔۔۔۔بہت بُری بات ہے۔ 8۔۔۔۔۔۔''تبیین الحقا ئق''،کتاب الأیمان ،ج ۳ ،ص ۴۱۸،۴۱۹ ، وغیرہ.