Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ نہم (9)
300 - 466
اوس نے کہا اگر تونے اسے مارا تو میری عورت کو طلاق ہے اوس وقت اوس نے نہیں مارا تو طلاق نہیں ہوئی اگرچہ کسی اور وقت میں مارے یا کسی نے اس کو ناشتہ کے لیے کہا کہ میرے ساتھ ناشتہ کرلو اوس نے کہا خدا کی قسم ناشتہ نہیں کروں گا اور اوس کے ساتھ ناشتہ نہ کیا توقسم نہیں ٹوٹی اگرچہ گھر جاکر اوسی روز ناشتہ کیا ہو۔

    اور موقت وہ ہے جس کے لیے کوئی وقت ایک دن دودن یا کم و بیش مقرر کردیا اسمیں اگر وقت معین (1) کے اندر قسم کے خلاف کیا تو ٹوٹ گئی ورنہ نہیں مثلاً قسم کھائی کہ اس گھڑے میں جو پانی ہے اوسے آج پیوں گااور آج نہ پیا تو قسم ٹوٹ گئی اور کفارہ دینا ہوگا اور پی لیا تو قسم پوری ہو گئی اور اگر اوس وقت کے پورا ہونے سے پہلے وہ شخص مرگیا یا اوس کاپانی گرادیا گیا تو قسم نہیں ٹوٹی۔ اور اگر قسم کھانے کے وقت اوس گھڑ ے میں پانی تھا ہی نہیں مگر قسم کھانے والے کو یہ معلوم نہ تھا کہ اس میں پانی نہیں ہے جب بھی قسم نہیں ٹوٹی اور اگر اسے معلوم تھا کہ پانی اس میں نہیں ہے اور قسم کھائی تو قسم ٹوٹ گئی۔

    اور اگر قسم میں کوئی وقت مقرر نہ کیا اور قرینہ(2) سے فوراً کرنا یا نہ کرنا نہ سمجھا جاتا ہو تو اوسے مرسل کہتے ہیں۔ کسی کام کے کرنے کی قسم کھائی اور نہ کیا مثلاً قسم کھائی کہ فلاں کوماروں گا اور نہ مارا یہاں تک کہ دونوں میں سے ایک مرگیا تو قسم ٹوٹ گئی اور جب تک دونوں زندہ ہوں تو اگرچہ نہ مارا قسم نہیں ٹوٹی اور نہ کرنے کی قسم کھائی تو جب تک کریگا نہیں قسم نہیں ٹوٹے گی مثلاً قسم کھائی کہ میں فلاں کو نہ ماروں گا اور مارا تو ٹوٹ گئی ورنہ نہیں۔ (3)(جوہرہ نیرہ)

    مسئلہ ۶: غلطی سے قسم کھا بیٹھا مثلاً کہنا چاہتا تھا کہ پانی لاؤ یاپانی پیوں گا اور زبان سے نکل گیا کہ خدا کی قسم پانی نہیں پیوں گا یا یہ قسم کھانا نہ چاہتا تھا دوسرے نے قسم کھانے پر مجبور کیا تو وہی حکم ہے جو قصداً (4) اور بلا مجبور کیے قسم کھانے کا ہے یعنی توڑے گا تو کفارہ دینا ہوگا قسم توڑنا اختیار سے ہو یا دوسرے کے مجبور کرنے سے قصداً ہو یا بھول چوک سے ہر صورت میں کفارہ ہے بلکہ اگر بیہوشی یا جنون میں قسم توڑنا ہوا جب بھی کفارہ واجب ہے جب کہ ہوش میں قسم کھائی ہواور اگر بے ہوشی یا جنون میں قسم کھائی تو قسم نہیں کہ عاقل ہونا شرط ہے اور یہ عاقل نہیں۔ (5)(تبیین)

    مسئلہ ۷: قسم کے لیے چند شرطیں ہیں، کہ اگر وہ نہ ہوں تو کفارہ نہیں۔ قسم کھانے والا(۱)مسلمان، (۲) عاقل،(۳)بالغ ہو۔ کافر کی قسم، قسم نہیں یعنی اگر زمانہ کفر میں قسم کھائی پھرمسلمان ہوا تواوس قسم کے توڑنے پر کفارہ واجب نہ ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔۔۔۔۔۔ مقررہ وقت۔ 

2۔۔۔۔۔۔یعنی ظاہری صورت حال۔

3۔۔۔۔۔۔''الجوھرۃ النیرۃ''،کتاب الأیمان ،الجزء الثانی ،ص ۲۴۷.

4۔۔۔۔۔۔ جان بوجھ کر۔

5۔۔۔۔۔۔''تبیین الحقائق''،کتاب الأیمان ،ج ۳، ص۴۲۳.
Flag Counter