Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ نہم (9)
297 - 466
اور جو اپنے ساتھی سے کہے آؤ جوا کھیلیں، وہ صدقہ کرے۔'' (1)

    حدیث ۴: صحیحین میں ثابت بن ضَحاک رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو شخص غیر ملّتِ اسلام پر جھوٹی قسم کھائے (یعنی یہ کہے کہ اگر یہ کام کرے تو یہودی یا نصرانی ہوجائے یا یوں کہے کہ اگر یہ کام کیا ہو تو یہودی یا نصرانی ہے) تو وہ ویسا ہی ہے جیسا اوس نے کہا (یعنی کافر ہے) اور ابن آدم پر اوس چیز کی نذر نہیں جس کا وہ مالک نہیں اور جو شخص اپنے کو جس چیز سے قتل کریگا، اوسی کے ساتھ قیامت کے دن عذاب دیا جائیگا اور مسلمان پر لعنت کرنا ایساہے جیسا اوسے قتل کردینا اور جوشخص جھوٹا دعویٰ اس لیے کرتا ہے کہ اپنے مال کو زیادہ کرے، اﷲتعالیٰ اوس کے لیے قلت میں اضافہ کریگا(2)۔'' (3)

    حدیث ۵: ابو داود و نسائی و ابن ماجہ بریدہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ''جوشخص یہ کہے (کہ اگرمیں نے یہ کام کیاہے یا کروں) تواسلام سے بری ہوں، وہ اگر جھوٹا ہے تو جیسا کہا ویساہی ہے اور اگرسچا ہے جب بھی اسلام کی طرف سلامت نہ لوٹے گا۔'' (4)

    حدیث ۶: ابن جریر ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جھوٹی قسم سے سودا فروخت ہوجاتا ہے اور برکت مٹ جاتی ہے۔'' (5)

    حدیث ۷: دیلمی اونھیں سے راوی، کہ فرمایا: ''یمینِ غموس مال کو زائل کردیتی ہے اور آبادی کو ویرانہ کردیتی ہے۔''(6) 

    حدیث ۸: ترمذی و ابو داود و نسائی و ابن ماجہ و دارمی عبداﷲ بن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے راوی، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو شخص قسم کھائے اور اس کے ساتھ انشاء اﷲ کہہ لے تو حانث نہ ہوگا۔'' (7)

    حدیث ۹: بخاری ومسلم وابو داود وابن ماجہ ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔۔۔۔۔۔''صحیح البخاري''،کتاب الأیمان والنذور، باب لا یحلف باللات... إلخ، الحدیث: ۶۶۵۰،ج۴،ص۲۸۸. 

2۔۔۔۔۔۔ یعنی مال میں بہت کمی کرے گا۔

3۔۔۔۔۔۔''صحیح مسلم''، کتاب الإیمان، باب بیان غلظ تحریم قتل الانسان نفسہ... إلخ، الحدیث: ۱۷۶۔(۱۱۰) ،ص ۶۹. 

4۔۔۔۔۔۔ ''سنن النسائي''،کتاب الأیمان والنذور، باب الحلف بالبراء ۃ من الاسلام، الحدیث: ۳۷۷۷، ص۶۱۶. 

5۔۔۔۔۔۔''کنزالعمال''،کتاب الیمین والنذر، الحدیث: ۴۶۳۷۶، ج۱۶، ص۲۹۷. 

6۔۔۔۔۔۔''کنزالعمال''،کتاب الیمین والنذر، الحدیث: ۴۶۳۷۸، ج۱۶، ص۲۹۷. 

7۔۔۔۔۔۔ ''جامع الترمذي''،ابواب النذوروالأیمان، باب ما جاء فی الإستثناء فی الیمین، الحدیث: ۱۵۳۶،ج۳، ص۱۸۳.
Flag Counter