Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ نہم (9)
296 - 466
    اﷲ (عزوجل) کا عہد پورا کرو جب آپس میں معاہدہ کرو اور قسموں کو مضبوط کرنے کے بعد نہ توڑو حالانکہ تم اﷲ (عزوجل) کو اپنے اوپر ضامن کرچکے ہو، جو کچھ تم کرتے ہو اﷲ (عزوجل) جانتا ہے۔

    اور فرماتا ہے:
    ( وَلَا تَتَّخِذُوۡۤا اَیۡمَانَکُمْ دَخَلًۢا بَیۡنَکُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ ثُبُوۡتِہَا ) (1)
    اپنی قسمیں آپس میں بے اصل بہانہ نہ بناؤ کہ کہیں جمنے کے بعد پاؤں پھسل نہ جائے۔

    اور فرماتا ہے:
    (وَ لَا یَاۡتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنۡکُمْ وَ السَّعَۃِ اَنۡ یُّؤْتُوۡۤا اُولِی الْقُرْبٰی وَ الْمَسٰکِیۡنَ وَالْمُہٰجِرِیۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ ۖ وَلْیَعْفُوۡا وَلْیَصْفَحُوۡا ؕ اَلَا تُحِبُّوۡنَ اَنۡ یَّغْفِرَ اللہُ لَکُمْ ؕ وَاللہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۲۲﴾ (2)
    تم میں سے فضیلت والے اور وسعت والے اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ قرابت والوں اور مسکینوں اور اﷲ (عزوجل) کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو نہ دینگے، کیا تم اسے دوست نہیں رکھتے کہ اﷲ (عزوجل) تمھاری مغفرت کرے اور اﷲ (عزوجل) بخشنے والا مہربان ہے۔
احادیث
    حدیث ۱: صحیحین میں عبداﷲ بن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''اﷲتعالیٰ تم کو باپ کی قسم کھانے سے منع کرتا ہے، جو شخص قسم کھائے تو اﷲ (عزوجل) کی قسم کھائے یا چپ رہے۔'' (3)

    حدیث ۲: صحیح مسلم شریف میں عبدالرحمن بن سمرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: کہ ''بتوں کی اور اپنے باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ۔'' (4)

    حدیث ۳: صحیحین میں ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے مروی، حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جو شخص لات و عزی کی قسم کھائے (یعنی جاہلیت کی عادت کی وجہ سے یہ لفظ اوسکی زبان پر جاری ہوجائے) وہ لآ اِلٰہ اِلاَّ اللہُ کہہ لے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔۔۔۔۔۔پ۱۴،النحل:۹۴.

2۔۔۔۔۔۔پ۱۸،النور:۲۲.

3۔۔۔۔۔۔''صحیح البخاري''،کتاب الأیمان والنذور، باب لا تحلفوا بآبائکم، الحدیث: ۶۶۴۶، ج۴،ص۲۸۶.

4۔۔۔۔۔۔''صحیح مسلم''،کتاب الأیمان، باب من حلف باللات والعزی... إلخ، الحدیث: ۶۔(۱۶۴۸) ص۸۹۵.
Flag Counter