جب کل ادا کردیگا آزاد ہوجائیگا اور جب تک اوس میں سے کچھ بھی باقی ہے غلام ہی ہے۔ (1)(جوہرہ وغیرہا)
مسئلہ ۱۲: مکاتب نے جو کچھ کمایا اوس میں تصرف کرسکتا ہے (2)جہاں چاہے تجارت کے لیے جاسکتا ہے مولےٰ اوسے پردیس جانے سے نہیں روک سکتا اگرچہ عقدِ کتابت میں یہ شرط لگا دی ہو کہ پردیس نہیں جائیگا کہ یہ شرط باطل ہے۔ (3) (مبسوط)
مسئلہ ۱۳: عقد کتابت میں مولیٰ کو اختیار ہے کہ معاوضہ فی الحال اداکرنا شرط کردے یا اوس کی قسطیں مقرر کردے اور پہلی صورت میں اگر اسی وقت ادا نہ کیا اور دوسری صورت میں پہلی قسط ادانہ کی تو مکاتب نہ رہا۔ (4) (مبسوط)
مسئلہ ۱۴: نابالغ غلام اگر اتنا چھوٹا ہے کہ خریدنا بیچنا نہیں جانتا تو اوس سے عقد کتابت نہیں ہوسکتا اور اگر اتنی تمیز ہے کہ خریدو فروخت کرسکے تو ہوسکتا ہے۔(5) (جوہرہ)
مسئلہ ۱۵: مکاتب کو خریدنے بیچنے سفر کرنے کا اختیار ہے اور مولیٰ کی بغیر اجازت اپنایا اپنے غلام کا نکاح نہیں کرسکتا اور مکاتبہ لونڈی بھی بغیر مولیٰ کی اجازت کے اپنانکاح نہیں کرسکتی اور ان کو ہبہ اور صدقہ کرنے کا بھی اختیار نہیں، ہاں تھوڑی سی چیز تصدق (6)کرسکتے ہیں جیسے ایک روٹی یا تھوڑا سانمک اور کفالت(7) اور قرض کا بھی اختیار نہیں۔(8) (جوہرہ)
مسئلہ ۱۶: مولیٰ نے اپنے غلام کا نکاح اپنی لونڈی سے کردیا پھردونوں سے عقد کتابت کیا اب اون کے بچہ پیدا ہوا تو یہ بچہ بھی مکاتب ہے اور یہ بچہ جو کچھ کمائے گا اس کی ماں کو ملے گا اور بچہ کا نفقہ(9) اس کی ماں پر ہے اور اس کی ماں کا نفقہ اس کے باپ پر۔(10) (جوہرہ)