مسئلہ ۱۷: مکاتبہ لونڈی سے مولیٰ وطی نہیں کرسکتا اگر وطی کریگا تو عقر لازم آئیگا اور اگر لونڈی کے مولیٰ سے بچہ پیدا ہوتو اوسے اختیار ہے کہ عقد کتابت باقی رکھے اور مولیٰ سے عقر لے یا عقد کتابت سے انکار کرکے ام ولد ہوجائے۔ (1) (جوہرہ)
مسئلہ ۱۸: مولےٰ نے مکاتب کا مال ضائع کردیا تو تاوان لازم ہوگا۔ (2)(جوہرہ)
مسئلہ ۱۹: ام ولد کو بھی مکاتبہ کرسکتا ہے اور مکاتب کو آزاد کردیا تو بدل کتابت ساقط ہوگیا۔(3) (جوہرہ)
مسئلہ ۲۰: ام ولد اوس لونڈی کو کہتے ہیں جس کے بچہ پیدا ہوا اور مولیٰ نے اقرار کیا کہ یہ میرا بچہ ہے خواہ بچہ پیدا ہونے کے بعد اوس نے اقرار کیا یا زمانہ حمل میں اقرار کیا ہو کہ یہ حمل مجھ سے ہے اور اس صورت میں ضروری ہے کہ اقرار کے وقت سے چھ مہینے کے اندر بچہ پیدا ہو۔ (4) (درمختار، جوہرہ)
مسئلہ ۲۱: بچہ زندہ پیدا ہوا یا مُردہ بلکہ کچا بچہ پیدا ہوا جس کے کچھ اعضابن چکے ہیں سب کا ایک حکم ہے یعنی اگرمولیٰ اقرار کرلے تو لونڈی ام ولد ہے۔ (5)(جوہرہ)
مسئلہ ۲۲: ام ولدکے جب دوسرابچہ پیدا ہو تو یہ مولےٰ ہی کا قرار دیا جائیگا جبکہ اُس کے تصرف میں ہو اب اس کے لیے اقرار کی حاجت نہ ہوگی البتہ اگرمولےٰ انکار کردے اور کہہ دے کہ یہ میرا نہیں تو اب اوس کا نسب مولیٰ سے نہ ہوگا اور اوس کا بیٹا نہیں کہلائے گا۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۲۳: ام ولد سے صحبت (7)کرسکتا ہے خدمت لے سکتا ہے اوس کو اجارہ پردے سکتا ہے یعنی اور وں کے کام کاج مزدوری پر کرے اور جو مزدوری ملے اپنے مالک کو لاکردے ام ولد کا کسی شخص کے ساتھ نکاح کرسکتا ہے مگر اس کے لیے استبرا (8) ضرور ہے اور ام ولد کو نہ بیچ سکتا ہے نہ ہبہ کرسکتا ہے نہ گروی رکھ سکتا ہے نہ اوسے خیرات کرسکتا ہے