یہ اوس وقت ہے کہ وُرَثہ(1)اجازت نہ دیں اور اگر اجازت دیدیں یا اس کا کوئی وارث ہی نہیں توکُل آزاد ہے۔ اور اگر مولیٰ پردَین ہے کہ یہ غلام اوس دین میں مُستَغرق(2) ہے توکل قیمت میں سعایت کرکے قرض خواہوں کو ادا کرے۔(3) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۶: مدبر مقید کا مولیٰ مرا اور اوسی وصف پر موت واقع ہوئی مثلاً جس مرض یا وقت میں مرنے پر اس کاآزادہونا کہا تھا وہی ہوا تو تہائی مال سے آزاد ہوجائیگا ورنہ نہیں۔اور ایسے مدبر کو بیع وہبہ وصدقہ وغیرہا کرسکتے ہیں۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۷: مولیٰ نے کہا تو میرے مرنے سے ایک مہینہ پہلے آزاد ہے اور اس کہنے کے بعد ایک مہینہ کے اندرمولیٰ مرگیا تو آزاد نہ ہوا اور اگر ایک مہینہ یا زائد پر مرا تو غلام پورا آزاد ہوگیا اگرچہ مولیٰ کے پاس اس کے علاوہ کچھ مال نہ ہو۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۸: مولیٰ نے کہا تو میرے مرنے کے ایک دن بعد آزاد ہے تو مدبر نہ ہوا، لہٰذا آزاد بھی نہ ہوگا۔(6)(عالمگیری)
مسئلہ ۹: مدبرہ کے بچہ پیدا ہو ا تو یہ بھی مدبر ہے، جبکہ وہ مدبرہ مطلقہ ہو اور اگر مقیدہ ہو تو نہیں۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۱۰: مدبرہ لونڈی کے بچہ پیدا ہوا اور وہ بچہ مولیٰ کا ہو تو وہ اب مدبر ہ نہ رہی بلکہ ام ولد ہوگئی کہ مولیٰ کے مرنے کے بعد بالکل آزاد ہوجائے گی اگرچہ اوس کے پاس اس کے سوا کچھ مال نہ ہو۔ (8)(درمختار)
مسئلہ ۱۱: غلام اگر نیک چلن ہو(9) اور بظاہر معلوم ہوتاہو کہ آزاد ہونیکے بعد مسلمانوں کو ضرر نہ پہنچائیگا تو ایسا غلام اگر مولیٰ سے عقد کتابت کی درخواست کرے تو اوس کی درخواست قبول کر لینا بہتر ہے۔ عقد کتابت کے یہ معنےٰ ہیں کہ آقا اپنے غلام سے مال کی ایک مقدار مقرر کرکے یہ کہدے کہ اتنا ادا کردے تو آزاد ہے اور غلام اسے قبول بھی کرلے اب یہ مکاتب ہوگیا