مسئلہ ۱: مدبر کی دو۲ قسمیں ہیں: مدبر مطلق۔ مدبر مقید۔ مدبر مطلق وہ جس میں کسی ایسے امر کا اضافہ نہ کیا ہو جس کاہونا ضروری نہ ہو یعنی مطلقاً موت پر آزاد ہونا قرار دیا مثلاً اگرمیں مروں تو تُو آزاد ہے اور اگر کسی وقتِ معین پر یا وصف کے ساتھ موت پر آزاد ہونا کہا تو مقید ہے مثلاً اس سال مروں یا اس مرض میں مروں کہ اُس سال یا اِس مرض سے مرنا ضرورنہیں اور اگر کوئی ایسا وقت مقرر کیا کہ غالب گمان اس سے پہلے مرجانا ہے مثلاً بوڑھا شخص کہے کہ آج سے سو۱۰۰ برس پرمروں توتُو آزاد ہے تو یہ مدبر مطلق ہی ہے کہ یہ وقت کی قید بیکار ہے کیونکہ غالب گمان یہی ہے کہ اب سے سو۱۰۰ برس تک زندہ نہ رہے گا۔(1) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۲: اگر یہ کہا کہ جس دن مروں تو آزاد ہے تو اگر چہ رات میں مرے وہ آزاد ہوگا کہ دن سے مراد یہاں مطلق وقت ہے ہاں اگر وہ کہے کہ دن سے میری مراد صبح سے غروب آفتاب تک کا وقت ہے یعنی رات کے علاوہ تو یہ نیت اس کی مانی جائیگی مگر اب یہ مدبر مقید ہوگا۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۳: مدبرکرنے کے بعد اب اپنے اس قول کو واپس نہیں لے سکتا۔ مدبر مطلق کو نہ بیچ سکتے ہیں۔ نہ ہبہ کرسکتے نہ رہن رکھ سکتے نہ صدقہ کرسکتے ہیں۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: مدبرغلام ہی ہے یعنی اپنے مولیٰ کی مِلک ہے(4) اس کو آزاد کرسکتا ہے مکاتب بناسکتا ہے اوس سے خدمت لے سکتا ہے مزدوری پر دے سکتا ہے، اپنی ولایت سے اوس کا نکاح کرسکتا ہے اور اگر لونڈی مدبرہ ہے تو اوس سے وطی (5)کرسکتا ہے۔ اوس کا دوسرے سے نکاح کرسکتا ہے اور مدبرہ سے اگر مولیٰ کی اولاد ہوئی تو وہ ام ولدہوگئی۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۵: جب مولیٰ مرے گا تواوس کے تہائی مال(7) سے مدبر آزاد ہو جائے گا یعنی اگریہ تہائی مال ہے یااس سے کم تو بالکل آزاد ہوگیا اور اگر تہائی سے زائد قیمت کا ہے تو تہائی کی قدر آزاد ہوگیا باقی کے لیے سَعایت کرے اوراگراس کے علاوہ مولےٰ کے پاس اور کچھ نہ ہو تو اس کی تہائی آزاد ،باقی دوتہائیوں میں سعایت کرے۔(8)