کہ جب وہ حصہ معین ہومثلاً آدھا۔ تہائی۔ چوتھائی۔ اور اگر غیرمعین ہو مثلاً تیر ا ایک حصہ آزاد ہے تو اس صورت میں بھی آزادہوگامگر چونکہ حصہ غیر معین ہے، لہٰذا مالک سے تعیین کرائی جائے گی کہ تری مراد کیا ہے جو وہ بتائے اوتنا آزاد قرار پائے گا اور دونوں صورتوں میں یعنی بعض معین یا غیرمعین میں جتنا باقی ہے اوس میں سعایت کرائیں گے یعنی اوس غلام کی اوس روز جو قیمت بازار کے نرخ (1)سے ہو اوس قیمت کا جتنا حصہ غیر آزاد شدہ کے مقابل ہو اوتنا مزدوری وغیرہ کراکر وصول کریں جب قیمت کا وہ حصہ وصول ہوجائے اوس وقت پورا آزاد ہوجائیگا۔ (2)(عامہ کتب)
مسئلہ ۱۳: یہ غلام جس کا کوئی حصہ آزاد ہوچکا ہے اس کے احکام یہ ہیں کہ(۱) اس کو نہ بیچ سکتے ہیں۔(۲)نہ یہ دوسرے کا وارث ہوگا۔(۳) نہ اس کا کوئی وارث ہو۔ (۴)نہ دوسے زیادہ نکاح کرسکے۔(۵)نہ مولیٰ (3)کی بغیر اجازت نکاح کرسکے۔(۶)نہ اُن معلاملات میں گواہی دے سکے جن میں غلام کی گواہی نہیں لی جاتی۔(۷)نہ ہبہ کرسکے۔(۸) نہ صدقہ دے سکے مگرتھوڑی مقدار کی اجازت ہے۔ (۹)اور نہ کسی کو قرض دے سکے۔(۱۰)نہ کسی کی کفالت کرسکے۔(۱۱)اور نہ مولیٰ اس سے خدمت لے سکتا ہے۔(۱۲)نہ اس کو اپنے قبضہ میں رکھ سکتا ہے۔ (4)(ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: جو غلام دوشخصوں کی شرکت میں ہے اون میں سے ایک نے اپنا حصہ آزاد کردیا تو دوسرے کو اختیا ر ہے کہ اگر آزاد کرنے والا مالدار ہے (یعنی مکان و خادم و سامان خانہ داری اور بدن کے کپڑوں کے علاوہ اوس کے پاس اتنا مال ہو کہ اپنے شریک کے حصہ کی قیمت ادا کرسکے) تو اوس سے اپنے حصہ کا تاوان لے یا یہ بھی اپنے حصہ کو آزاد کردے یا یہ اپنے حصہ کی قدرسَعایت کرائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کو مدبر کردے مگر اس صورت میں بھی فی الحال سعایت کرائی جائے اور مولیٰ کے مرنے کے پہلے اگرسَعایت سے قیمت ادا کرچکا تو ادا کرتے ہی آزاد ہوگیا ورنہ اوس کے مرنے کے بعد اگر تہائی مال(5) کے اندر ہو توآزاد ہے۔ (6)(درمختار وغیرہ)