مسئلہ ۱۵: جب ایک شریک (1)نے آزاد کردیا تو دوسرے کو اوس کے بیچنے یا ہبہ کرنے یا مَہر میں دینے کاحق نہیں۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: شریک کے آزاد کرنے کے بعد اس نے سَعایت(3) شروع کرادی تو اب تاوان نہیں لے سکتا ہاں اگر غلام اثنائے سَعایت میں مرگیا تو بقیہ کا اب تاوان لے سکتا ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: تاوان لینے کا حق اوس وقت ہے کہ اوس نے بغیر اجازت شریک آزاد کردیا اور اجازت کے بعد آزاد کیاتو نہیں۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: کسی نے اپنے دوغلاموں کو مخاطب کرکے کہا تم میں کا(6) ایک آزاد ہے تو اوسے بیا ن کرنا ہوگا جس کوبتائے کہ میں نے اُسے مراد لیا وہ آزاد ہوجائے گا۔ اور بیان سے قبل ایک کو بیع کیا (7)یا رہن رکھا (8)یا مکاتب یا مدبر کیا تودوسراآزادہونے کے لیے معین ہوگیا۔ اور اگر نہ بیان کیا نہ اس قسم کا کوئی تصرف کیا (9)اور ایک مرگیا تو جو باقی ہے وہ آزاد ہوگیا اور اگر مولیٰ خود مرگیا تو وارث کو بیان کرنے کا حق نہیں بلکہ ہر ایک میں سے آدھا آدھا آزاد اور آدھے باقی میں دونوں سَعایت کریں۔ (10)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: غلام سے کہا تو اتنے مال پر آزاد ہے اور اُس نے اوسی مجلس میں یا جس مجلس میں اس کا علم ہوا قبول کرلیا تواوسی وقت آزاد ہوگیا۔ یہ نہیں کہ جب ادا کریگا اوسوقت آزاد ہوگا اور اگر یوں کہا کہ تو اتنا ادا کردے تو آزاد ہے تو یہ غلام ماذون ہوگیا یعنی اسے تجارت کی اجازت ہوگئی اور اس صورت میں قبول کرنے کی حاجت نہیں بلکہ اگر انکار کردے جب بھی ماذون رہے گا اور جب تک اوتنے ادانہ کردے مولیٰ اوسے بیچ سکتا ہے۔ (11)(درمختار)