ان میں بغیر نیت آزاد نہ ہوگا۔ اگر کہا تو آزاد کی مثل ہے تو اس میں بھی نیت کی ضرورت ہے۔ (1)(عالمگیری، درمختار وغیرہما)
مسئلہ ۷: الفاظ طلاق سے آزاد نہ ہوگا اگرچہ نیت ہو یعنی یہ آزادی کے لیے کنایہ بھی نہیں۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۸: ذی رحم محرم یعنی ایسا قریب کا رشتہ والا کہ اگر ان میں سے ایک مرد ہو اور ایک عورت ہو تو نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہو جیسے باپ ،ماں، بیٹا ،بیٹی، بھائی ،بہن، چچا ،پھوپھی ،ماموں ،خالہ، بھانجہ ،بھانجی ان میں کسی کا مالک ہو تو فوراً ہی آزاد ہوجائیگا اور اگر ان کے کسی حصہ کا مالک ہوا تواوتنا آزاد ہوگیا۔ اس میں مالک کے عاقل بالغ ہونے کی بھی شرط نہیں بلکہ بچہ یا مجنون بھی ذی رحم محرم کا مالک ہو تو آزاد ہوجائیگا۔(3) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۹: اگر آزادی کو کسی شرط پر معلق کیا (4)مثلاً اگر تو فُلاں کام کرے تو آزاد ہے اور وہ شرط پائی گئی تو غلام آزاد ہے جبکہ شرط پائی جانے کے وقت اوسکی ملک میں ہو اور اگر ایسی شرط پر معلق کیا جو فی الحال موجودہے مثلاً اگرمیں تیرا مالک ہوجاؤں تو آزاد ہے تو فوراً آزاد ہوجائے گا۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۱۰: لونڈی حاملہ تھی اوسے آزاد کیا تو اوس کے شکم (6)میں جو بچہ ہے وہ بھی آزاد ہے اور اگر صرف پیٹ کے بچہ کو آزاد کیا تو وہی آزاد ہوگا لونڈی آزاد نہ ہوگی، مگر جب تک بچہ پیدا نہ ہولے لونڈی کو بیچ نہیں سکتا۔(7) (درمختار)
مسئلہ ۱۱: لونڈی کی اولاد جو شوہر سے ہوگی وہ اوس لونڈی کے مالک کی مِلک ہوگی اور جو اولاد مولیٰ (8)سے ہوگی وہ آزاد ہوگی۔ (9) (عامہ کتب)
مسئلہ ۱۲: یہ اوپر معلوم ہوچکا ہے کہ اگر کسی حصہ کو آزاد کیا تو اوتنا ہی آزاد ہوگا یہ اوس صورت میں ہے