مسئلہ ۴: آزاد کرنے کو اگرمِلک(1) یا سببِ ملک(2) پر معلق کیا مثلاً جو غلام کہ فی الحال اس کی ملک میں نہیں اوس سے کہا کہ اگر میں تیرا مالک ہوجاؤں یا تجھے خریدوں تو تُو آزاد ہے اس صورت میں جب اوس کی ملک میں آئیگا آزاد ہوجائے گا۔ اوراگر مورث(3) کی موت کی طرف اضافت کی یعنی جو غلام مور ث کی مِلک میں ہے اوس سے کہا کہ اگر میرا مورث مرجائے تو تُوآزاد ہے تو آزاد نہ ہوگا کہ موتِ مورث سببِ ملک نہیں۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۵: زبان سے کہنا شرط نہیں بلکہ لکھنے سے اور گونگا ہو تو اشارہ کرنے سے بھی آزاد ہوجائیگا۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۶: طلاق کی طرح اس میں بھی بعض الفاظ صریح ہیں بعض کنایہ۔ صریح میں نیت کی ضرورت نہیں بلکہ اگر کسی اور نیت سے کہے جب بھی آزاد ہوجائیگا۔ صریح کے بعض الفاظ یہ ہیں:
تُو آزاد ہے۔ حُر ہے۔ اے آزاد۔ اے حُر۔ میں نے تجھ کو آزاد کیا، ہاں اگر اوس کا نام ہی آزاد ہے اور اے آزادکہا یا نام حُر ہے اور اے حُر کہہ کر پُکارا تو آزاد نہ ہوا اور اگر نام آزاد ہے اور اے حُر کہہ کر پکارا یا نام حُر ہے اور اے آزاد کہہ کر پکارا تو آزاد ہوجائے گا۔ یہ الفاظ بھی صریح کے حکم میں ہیں۔ نیت کی ضرورت نہیں، میں نے تجھے تجھ پر صدقہ کیایا تجھے تیرے نفس کو ہبہ کیا، میں نے تجھے تیرے ہاتھ بیچا ان میں اس کی بھی ضرورت نہیں کہ غلام قبول کرے۔ اور اگریوں کہا کہ میں نے تجھے تیرے ہاتھ اتنے کو بیچا تو اب قبول کی ضرورت ہوگی اگر قبول کریگا تو آزاد ہوگااو ر اوتنے دینے پڑینگے۔ آزادی کو کسی ایسے جز کی طرف منسوب کیا جو پورے سے تعبیر ہے مثلاً تیرا سر۔ تیری گردن۔ تیری زبان آزاد ہے توآزاد ہوگیا اور اگر ہاتھ یا پاؤں کو آزاد کہا تو آزاد نہ ہوا اور اگر تہائی ،چوتھائی، نصف وغیرہ کو آزادکیاتو اوتنا آزاد ہوگیااگر غلام کو کہا یہ میرا بیٹا ہے یا لونڈی کو کہا یہ میری بیٹی ہے اگر چہ عمر میں زیادہ ہوں یا غلام کو کہا یہ میرا باپ یا دادا ہے یالونڈی کو کہا کہ یہ میری ماں ہے اگرچہ ان کی عمر اتنی نہ ہوکہ باپ یا دادا یا ماں ہونے کے قابل ہوں تو ان سب صورتوں میں آزاد ہیں اگرچہ اس نیت سے نہ کہا ہو۔ اور اگر کہا اے میرے بیٹے، اے میرے بھائی، اے میری بہن، اے میرے باپ تو بغیر نیت آزاد نہیں۔
کنایہ کے بعض الفاظ یہ ہیں۔ تو میری ملک نہیں۔ تجھ پر مجھے راہ نہیں۔ تو میری ملک سے نکل گیا