یا اس کے مثل اور کوئی لفظ جس سے آزادی ثابت ہوتی ہے۔دوسری یہ کہ ذی رحم محرم اوس کا مالک ہوجائے تومِلک میں آتے ہی آزاد ہوجائے گا۔ سوم یہ کہ حربی کافر مسلمان غلام کو دارالاسلام سے خرید کر دارالحرب میں لے گیا تو وہاں پہنچتے ہی آزاد ہوگیا۔(1)(درمختار)
مسئلہ ۱: آزاد کرنے کی چار قسمیں ہیں: واجب، مندوب، مباح، کفر۔
قتل و ظہار و قسم اور روزہ توڑنے کے کفارے میں آزاد کرنا واجب ہے، مگر قسم میں اختیار ہے کہ غلام آزاد کرے یا دس۱۰ مساکین کو کھانا کھلائے یا کپڑے پہنائے، یہ نہ کرسکے تو تین روزے رکھ لے۔ باقیؔ تین میں اگر غلام آزاد کرنے پر قدرت ہو تو یہی متعین ہے۔
مندوبؔ وہ ہے کہ اﷲ (عزوجل) کے لیے آزاد کرے اوس وقت کہ جانب شرع (2)سے اوس پر یہ ضروری نہ ہو۔
مباحؔ یہ کہ بغیر نیت آزاد کیا۔
کفروہ کہ بتوں یا شیطان کے نام پر آزاد کیا کہ غلام اب بھی آزاد ہوجائے گا ،مگر اوس کا یہ فعل کفر ہوا کہ ان کے نام پر آزاد کرنا دلیل تعظیم ہے اور ان کی تعظیم کفر۔ (3)(عالمگیری، جوہرہ)
مسئلہ ۲: آزاد کرنے کے لیے مالک کا حر،(4) عاقل، بالغ ہونا شرط ہے یعنی غلام اگرچہ ماذون یا مکاتب ہو، آزادنہیں کرسکتا اور مجنون یا بچہ نے اپنے غلام کو آزاد کیا تو آزاد نہ ہوا، بلکہ جوانی میں بھی اگر کہے کہ میں نے بچپن میں اسے آزاد کردیا تھا یا ہوش میں کہے کہ جنون کی حالت میں، میں نے آزاد کردیا تھا اور اوس کا مجنون ہونا معلوم ہو تو آزاد نہ ہوا، بلکہ اگربچہ یہ کہے کہ جب میں بالغ ہوجاؤں تو تُو آزاد ہے تو اس کہنے سے بھی بالغ ہونے پرآزاد نہ ہوگا۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: اگر نشہ میں یا مسخرہ پن (6)سے آزاد کیا یا غلطی سے زبان سے نکل گیا کہ تو آزاد ہے تو آزاد ہوگیا یا یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ میرا غلام ہے اور آزاد کردیا جب بھی آزاد ہوگیا۔ (7) (درمختار)