میں نے حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم)سے عرض کی، کس گردن(1) کو آزاد کرنا زیادہ بہتر ہے؟ فرمایا: ''جس کی قیمت زیادہ ہو اور زیادہ نفیس ہو۔'' میں نے کہا، اگر یہ نہ کرسکوں؟ فرمایا: کہ ''کام کرنے والے کی مدد کرو یا جو کام کرنا نہ جانتا ہو، اس کا کام کر دو۔'' میں نے کہا، اگر یہ نہ کروں؟ فرمایا:''لوگوں کو ضرر پہنچانے سے بچو کہ اس سے بھی تم کو صدقہ کا ثواب ملے گا۔'' (2)
حدیث ۳: بیہقی شعب الایمان میں براء بن عازب رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، ایک اعرابی(3)نے حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی، مجھے ایسا عمل تعلیم فرمائیے جو مجھے جنت میں داخل کرے۔ ارشاد فرمایا:''اگرچہ تمھارے الفاظ کم ہیں، مگر جس بات کا سوال کیا ہے وہ بہت بڑی ہے (وہ عمل یہ ہے) کہ جان کو آزاد کرو اور گردن کو چھوڑاؤ۔''عرض کی، یہ دونوں ایک ہی ہیں؟ فرمایا: ''ایک نہیں۔ جان کو آزاد کرنا یہ ہے کہ تو اوسے تنہا آزاد کر دے اور گردن چھوڑانا یہ کہ اوس کی قیمت میں مدد کرے۔'' (4)
حدیث ۴: ابو داود و نسائی واثلہ بن اسقع رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، کہتے ہیں ہم حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) کی خدمت میں ایک شخص کے متعلق دریافت کرنے حاضر ہوئے، جس نے قتل کی وجہ سے اپنے اوپر جہنم واجب کرلیا تھا۔ ارشاد فرمایا: ''اس کی طرف سے آزاد کرو، اس کے ہر عضو کے بدلے میں اﷲتعالیٰ اوس کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد کریگا۔'' (5)
حدیث ۵: بیہقی شعب الایمان میں سمرہ بن جندب رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''افضل صدقہ یہ ہے کہ گردن چھوڑانے(6) میں سفارش کی جائے۔'' (7)