| بہارِشریعت حصّہ نہم (9) |
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمِ ۵ؕ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ ؕ
آزاد کرنے کا بیان
عتق (یعنی غلام آزاد کرنے) کے مسائل کی ہندوستان میں ضرورت نہیں پڑتی کہ یہاں نہ لونڈی ،غلام ہیں نہ ان کے آزاد کرنے کا موقع۔ یوہیں فقہ کے اور بھی بعض ایسے ابواب ہیں جن کی زمانہ حال میں یہاں کے مسلمانوں کو حاجت نہیں اس وجہ سے خیال ہوتا تھا کہ ایسے مسائل اس کتاب میں ذکر نہ کیے جائیں مگر ان چیزوں کو بالکل چھوڑ دینا بھی ٹھیک نہیں کہ کتاب ناقص رہ جائے گی۔ نیز ہماری اس کتاب کے اکثر بیانات میں باندی ،غلام کے امتیازی مسائل کا تھوڑا تھوڑا ذکر ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس جگہ بالکل پہلوتہی کی جائے(1) لہٰذا مختصراً چند باتیں گزارش کروں گا کہ اس کے اقسام و احکام پر قدرے اطلاع ہوجائے۔ غلام آزاد کرنے کی فضیلت قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:(فَکُّ رَقَبَۃٍ ﴿ۙ۱۳﴾اَوْ اِطْعٰمٌ فِیۡ یَوْمٍ ذِیۡ مَسْغَبَۃٍ ﴿ۙ۱۴﴾ (2)
احادیث اس بارے میں بکثرت ہیں بعض احادیث ذکر کی جاتی ہیں۔
احادیث
حدیث ۱: صحیحین میں ابو ہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے مروی حضوراقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو شخص مسلمان غلام کو آزاد کریگا اسکے ہر عضو کے بدلے میں اﷲتعالیٰ اس کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد فرمائے گا۔'' سعید بن مرجانہ کہتے ہیں میں نے یہ حدیث علی بن حسین (امام زین العابدین) رضی اﷲتعالیٰ عنہما کو سنائی اونھوں نے اپنا ایک ایسا غلام آزاد کیا جس کی قیمت عبداﷲ بن جعفر دس ۱۰ ہزار دیتے تھے۔ (3)
حدیث ۲: نیز صحیحین میں ابو ذر رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے مروی کہتے ہیں،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 1۔۔۔۔۔۔یعنی غلام آزادکرنے کابیان چھوڑ دیا جائے۔ 2۔۔۔۔۔۔پ۳،البلد:۱۳،۱۴. ترجمہ کنزالایمان :کسی بندے کی گردن چھڑانا،یا بھوک کے دن کھانا دینا۔ 3۔۔۔۔۔۔''صحیح البخاري''،کتاب العتق،باب فی العتق وفضلہ،الحدیث:۲۵۱۷،ج۲،ص۱۵۰.