Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8)
281 - 282
چاہیے اور لونڈی کو صرف اتنا ہی کپڑا دینا جو سترِ عورت کے لائق ہے جائز نہیں اور اگر مولیٰ اچھے کھانے کھاتا ہے اچھے لباس پہنتاہے تو یہ واجب نہیں کہ غلام کو بھی ویسا ہی کھلائے پہنائے مگر مستحب ہے کہ ویسا ہی دے اور اگر مولیٰ بخل یا ریاضت کے سبب وہاں کی عادت سے کم درجہ کا کھاتا پہنتا ہے تو یہ ضرور ہے کہ غلام کو وہاں کے عام چلن کے موافق دے اور اگر غلام نے کھانا پکایاہے تو مولیٰ کو چاہیے کہ اُسے اپنے ساتھ بٹھاکر کھلائے اور اگر غلام ادب کی وجہ سے انکار کرتا ہے تو اُس میں سے اُسے کچھ دیدے۔ (1)(عالمگيری) 

    مسئلہ ۱۰۴: چند غلام ہوں تو سب کو یکساں کھانا کپڑا دے لونڈی کا بھی یہی حکم ہے اور جس لونڈی سے وطی کرتا ہے اُس کا لباس اور وں سے اچھا ہو۔(2) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۱۰۵: غلام کے وضو غسل وغیرہ کے ليے پانی خریدنے کی ضرورت ہو تو مولیٰ پر خریدنا واجب ہے۔ (3)(جوہرہ) 

    مسئلہ ۱۰۶: جس غلام کے کچھ حصہ کو آزاد کردیا ہے اُس کا اور مکاتب کانفقہ مولیٰ کے ذمہ نہیں۔(4) (عالمگيری) 

    مسئلہ ۱۰۷: جس غلام کو بیچ ڈالا ہے اُس کا نفقہ بائع پر ہے جب تک بائع کے قبضہ میں ہے اور اگر بیع میں کسی جانب خیار ہو تو نفقہ اُس کے ذمہ ہے جس کی ملک بالآخر قرار پائے اور کسی کے پاس غلام کو امانت یا رہن رکھا تو مالک پر ہے او ر عاریۃً دیا تو کھلانا عاریت لینے والے پر ہے اور کپڑا مالک کے ذمہ اور اگر امین یا مرتہن نے قاضی سے اجازت چاہی کہ جو کچھ خرچ ہو وہ غلام کے ذمہ ڈالا جائے تو قاضی اس کا حکم نہ دے بلکہ یہ کہے کہ غلام مزدوری کرے اور جو کمائے اُس کے نفقہ میں صرف کیا جائے یا قاضی غلام کوبیچ ڈالے اور ثمن مولیٰ کے ليے محفوظ رکھے اور اگر قاضی کے نزدیک یہی مصلحت ہے کہ نفقہ اُس پر ڈالا جائے تو یہ حکم بھی دے سکتا ہے۔ یہی احکام اُس وقت بھی ہیں کہ بھاگے ہوئے غلام کو کوئی پکڑلایا اور قاضی سے نفقہ کے بارے میں اجازت چاہی یا دوشریک تھے ایک حاضر ہے ایک غا ئب اور حاضر نے اجازت مانگی۔ (5)(عالمگیری ، درمختار) 

    مسئلہ ۱۰۸: کسی نے غلام غصب کر لیا تو نفقہ غاصب پر ہے، جب تک واپس نہ کرے اور اگر غاصب نے قاضی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع عشرفی النفقات، الفصل السادس، ج۱، ص۵۶۸.

2۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق. 

3۔۔۔۔۔۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب النفقات، الجزء الثانی، ص۱۲۳.

4۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع عشرفی النفقات، الفصل السادس،ج۱، ص۵۶۹. 

5۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق.

و''الدرالمختار''، کتاب الطلاق ، باب النفقۃ ،ج۵،ص۳۸۴.
Flag Counter