سے نفقہ یا بیع کی اجازت مانگی تو اجازت نہ دے، ہاں اگر یہ اندیشہ ہو کہ غلام کوضائع کردے گا تو قاضی بیچ ڈالے اور ثمن محفوظ رکھے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۱۰۹: غلام مشترک کانفقہ ہر شریک پر بقدر حصہ لازم ہے اور اگر ایک شریک نفقہ دینے سے انکار کرے تو بحکم قاضی جو اُس کی طرف سے خرچ کریگا اُس سے وصول کرسکتا ہے۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۱۱۰: اگر غلام کو آزاد کر دیا تو اب مولیٰ پر نفقہ واجب نہیں اگرچہ وہ کمانے کے لائق نہ ہو مثلاً بہت چھوٹا بچہ یا بہت بوڑھا یا اپاہج یا مریض ہو بلکہ ان کا نفقہ بیت المال سے دیا جائے گا اگر کوئی ایسا نہ ہو جس پر نفقہ واجب ہو۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱۱: جانور پالے اور اُنھیں چارہ نہیں دیتا تو دیا نۃًحکم دیا جائے گا کہ چارہ وغیرہ دے یا بیچ ڈالے اور اگر مشترک ہے اور ایک شریک اُسے چارہ وغیرہ دینے سے انکار کرتا ہے تو قضائً بھی حکم دیا جائے گا کہ یا چارہ دے یا بیچ ڈالے۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۱۱۲: اگر جانور کو چارہ کم دیتا ہے اور پورادودھ دوہ لینا مُضر ہو تو پورا دودھ دوہنا مکروہ ہے۔ یوہیں بالکل نہ دوہے یہ بھی مکروہ ہے اور دوہنے میں یہ بھی خیال رکھے کہ بچہ کے ليے بھی چھوڑنا چاہيے اور ناخن بڑے ہوں تو ترشوادے کہ اُسے تکلیف نہ ہو۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱۳: جانور پر بوجھ لادنے اور سواری لینے میں یہ خیال کرنا چاہیے کہ اُس کی طاقت سے زیادہ نہ ہو۔ (6)(جوہرہ)
باغ اور زراعت و مکان میں اگر خرچ کرنے کی ضرورت ہو تو خرچ کرے اور خرچ نہ کرکے ضائع نہ کرے کہ مال ضائع کرنا ممنوع ہے۔(7) (درمختار ) واﷲ تعالیٰ اعلم۔
شب بست و دوم ماہ فاخر ربیع الآخر شب پنج شنبہ ۱۳۳۸ھ
باتمام رسید (8)