توباپ پر ہے، ان پر نہیں۔(1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۸۵: باپ اگر تنگ دست ہواور اُس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہوں اور یہ بچے محتاج ہوں اور بڑا بیٹا مالدار ہے تو باپ اور اُس کی سب اولاد کانفقہ اس پر واجب ہے۔(2) (عالمگيری)
مسئلہ ۸۶: بیٹا اگر ماں باپ دونوں کانفقہ نہیں دے سکتا مگر ایک کادے سکتا ہے توماں زیادہ مستحق ہے۔ اور اگر باپ محتاج ہے اور چھوٹا بچہ بھی ہے اور دونوں کانفقہ نہ دے سکتا ہو مگر ایک کا دے سکتا ہے تو بیٹا زیادہ حقدار ہے۔ اور اگر والدین میں کسی کاپورا نفقہ نہ دے سکتا ہو تو دونوں کو اپنے ساتھ کھلائے جو خود کھاتا ہو اُسی میں سے اُنھیں بھی کھلائے۔ اور اگر باپ کو نکاح کرنے کی ضرورت ہے اور بیٹا مالدار ہے تو بیٹے پر باپ کی شادی کرادینا واجب ہے یا اُس کے ليے کوئی کنیز خرید دے اور اگر باپ کی دوبی بیاں ہیں تو بیٹے پر فقط ایک کا نفقہ واجب ہے مگر باپ کو دیدے کہ وہ دونوں کو تقسیم کرکے دے۔ (3)(جوہرہ)
مسئلہ ۸۷: باپ بیٹے دونوں نادار ہیں مگر بیٹا کمانے والا ہے تو بیٹے پر دیانۃًحکم کیا جائیگا کہ باپ کو بھی ساتھ لے لے یہ جبکہ بیٹا تنہا ہواور اگر بال بچوں والا ہے تو مجبور کیاجائے گا کہ باپ کوبھی ہمراہ لے لے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۸۸: جو رشتہ دار محارم ہوں اُن کا بھی نفقہ واجب ہے جبکہ محتاج ہوں اور نابالغ یا عورت ہو۔ اوررشتہ دار بالغ مرد ہو تو یہ بھی شرط ہے کہ کمانے سے عاجز ہو مثلاًدیوانہ ہے یا اُس پر فالج گرا ہے یا اپاہج ہے یا اندھا۔ اور اگر عاجز نہ ہو تو واجب نہیں اگرچہ محتاج ہو اور عورت میں بالغہ نا بالغہ کی قید نہیں اور ان کے نفقات بقدرِ میراث (5) واجب ہیں یعنی اُس کے ترکہ سے جتنی مقدار کا وارث ہوگا اُسی کے موافق اِس پر نفقہ واجب مثلاًکوئی شخص محتاج ہے اور اُس کی تین بہنیں ہیں ایک حقیقی ایک سوتیلی ایک اخیافی تو نفقہ کے پانچ حصے تصور کریں تین حقیقی بہن پر اور ایک ایک ان دونوں پراور اگر اسی طرح کے تین بھائی ہیں تو چھ حصے تصور کریں ایک اخیافی بھائی پر اور باقی حقیقی پر سوتیلے پر کچھ نہیں کہ وہ وارث نہیں۔ اور اگر ماں اور دادا ہیں تو ایک حصہ ماں پر اور دو دادا پر۔ اور اگر ماں اور بھائی یا ماں او ر چچا ہے جب بھی یہی صورت ہے اور اگر ان کے ساتھ بیٹا بھی ہے مگر نا بالغ نادار ہے یابالغ ہے مگر عاجز تو اُسکا ہونا نہ ہونا دونوں برابر کہ جب اُس پر نفقہ واجب نہیں تو کالعدم (6) ہے اور اگرحقیقی چچا اور حقیقی پھوپی یا