حقیقی ماموں ہے تو نفقہ چچا پر ہے پھوپی یاماموں پر نہیں۔ اور وراثت سے مراد محض اہلِ وراثت ہے کہ حقیقۃً وراثت تو مرنے کے بعد ہوگی، نہ اب۔ (1)(جوہرہ، عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۸۹: يہ تو معلوم ہوچکا ہے کہ رشتہ دار عورت میں نابالغہ کی قید نہیں، بلکہ اگر کمانے پر قادر ہے جب بھی اُس کانفقہ واجب ہے، ہاں اگر کوئی کام کرتی ہے جس سے اُس کاخرچ چلتا ہے تو اب اس کانفقہ رشتہ دار پر فرض نہیں۔ یوہیں اندھا وغیرہ بھی کماتا ہو تو اب کسی اور پر نفقہ فرض نہیں۔(2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۹۰: طالبِ علمِ دین اگرچہ تندرست ہے، کام کرنے پر قادر ہے، مگر اپنے کو طلبِ علمِ دین میں مشغول رکھتا ہے تو اُس کانفقہ بھی رشتہ والوں پر فرض ہے۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۹۱: قریبی رشتہ دار غائب ہے اور دوروالا موجود ہے تو نفقہ اسی دور کے رشتہ دار پر ہے۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۹۲: عورت کاشوہر تنگ دست ہے اور بھائی مالدار ہے تو بھائی کو خرچ کرنے کا حکم دیا جائے گا۔ پھر جب شوہر کے پاس مال ہوجائے تو واپس لے سکتا ہے۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۹۳: اگر رشتہ دار محرم نہ ہو جیسے چچا زاد بھائی یا محرم ہو مگر رشتہ دار نہ ہو، جیسے رضاعی بھائی، بہن یا رشتہ دار محرم ہو مگر حرمت قرابت کی نہ ہو(6)، جیسے چچا زاد بھائی اور وہ رضاعی بھائی بھی ہے کہ حرمت رضاعت کی وجہ سے ہے(7)، نہ رشتہ کی وجہ سے تو ان صورتوں میں نفقہ واجب نہیں۔(8) (عالمگيری)
مسئلہ ۹۴: محارم کانفقہ دے دیا اور اُس کے پاس سے ضائع ہوگیا تو پھر دیناہوگا اور کچھ بچ رہا تو اتنا کم کردیا جائے۔ (9)(عالمگيری)