Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8)
278 - 282
حقیقی ماموں ہے تو نفقہ چچا پر ہے پھوپی یاماموں پر نہیں۔ اور وراثت سے مراد محض اہلِ وراثت ہے کہ حقیقۃً وراثت تو مرنے کے بعد ہوگی، نہ اب۔ (1)(جوہرہ، عالمگیری، درمختار) 

    مسئلہ ۸۹: يہ تو معلوم ہوچکا ہے کہ رشتہ دار عورت میں نابالغہ کی قید نہیں، بلکہ اگر کمانے پر قادر ہے جب بھی اُس کانفقہ واجب ہے، ہاں اگر کوئی کام کرتی ہے جس سے اُس کاخرچ چلتا ہے تو اب اس کانفقہ رشتہ دار پر فرض نہیں۔ یوہیں اندھا وغیرہ بھی کماتا ہو تو اب کسی اور پر نفقہ فرض نہیں۔(2) (ردالمحتار) 

    مسئلہ ۹۰: طالبِ علمِ دین اگرچہ تندرست ہے، کام کرنے پر قادر ہے، مگر اپنے کو طلبِ علمِ دین میں مشغول رکھتا ہے تو اُس کانفقہ بھی رشتہ والوں پر فرض ہے۔(3) (درمختار) 

    مسئلہ ۹۱: قریبی رشتہ دار غائب ہے اور دوروالا موجود ہے تو نفقہ اسی دور کے رشتہ دار پر ہے۔(4) (درمختار) 

    مسئلہ ۹۲: عورت کاشوہر تنگ دست ہے اور بھائی مالدار ہے تو بھائی کو خرچ کرنے کا حکم دیا جائے گا۔ پھر جب شوہر کے پاس مال ہوجائے تو واپس لے سکتا ہے۔ (5)(درمختار) 

    مسئلہ ۹۳: اگر رشتہ دار محرم نہ ہو جیسے چچا زاد بھائی یا محرم ہو مگر رشتہ دار نہ ہو، جیسے رضاعی بھائی، بہن یا رشتہ دار محرم ہو مگر حرمت قرابت کی نہ ہو(6)، جیسے چچا زاد بھائی اور وہ رضاعی بھائی بھی ہے کہ حرمت رضاعت کی وجہ سے ہے(7)، نہ رشتہ کی وجہ سے تو ان صورتوں میں نفقہ واجب نہیں۔(8) (عالمگيری) 

    مسئلہ ۹۴: محارم کانفقہ دے دیا اور اُس کے پاس سے ضائع ہوگیا تو پھر دیناہوگا اور کچھ بچ رہا تو اتنا کم کردیا جائے۔ (9)(عالمگيری)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب النفقات، الجزء الثاني، ص۱۲۰.

و''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الطلاق،الباب السابع عشرفی النفقات،الفصل الخامس،ج۱،ص۵۶۵۔۵۶۷.

و''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب النفقۃ،ج۵، ص۳۶۸۔۳۷۲.

2۔۔۔۔۔۔''ردالمحتار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ ،مطلب في نفقۃ قرابۃ... إلخ، ج۵، ص۳۶۸.

3۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ، ج۵، ص۳۶۹.

4۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، ص۳۷۲ .        5۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق.

6۔۔۔۔۔۔یعنی نکاح کاحرام ہوناقریبی رشتہ کی وجہ سے نہ ہو۔    7۔۔۔۔۔۔یعنی نکاح حرام ہونادودھ کے رشتے کی وجہ سے ہے۔

8۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع عشرفی النفقات، الفصل الخامس، ج۱، ص۵۶۶. 

9۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، ص۵۶۷ .
Flag Counter