مسئلہ ۷۴: بچہ کو دودھ پلانا ماں پر اُسوقت واجب ہے کہ کوئی دوسری عورت دودھ پلانے والی نہ ملے یابچہ دوسری کادودھ نہ لے یا اُس کا باپ تنگدست ہے کہ اُجرت نہیں دے سکتا اور بچہ کی مِلک میں بھی مال نہ ہو ان صورتوں میں دودھ پلانے پر ماں مجبور کی جائے گی اور اگریہ صورتیں نہ ہوں تو دیانۃًماں کے ذمہ دودھ پلانا ہے مجبور نہیں کی جاسکتی۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۷۵: بچہ کو دائی نے دودھ پلایا کچھ دنوں کے بعد دودھ پلانے سے انکار کرتی ہے اور بچہ دوسری عورت کا دودھ نہیں لیتا یا کوئی اور پلانے والی نہیں ملتی یا ابتدا ہی میں کوئی عورت اس کو دودھ پلانے والی نہیں تویہی متعین ہے دودھ پلانے پر مجبور کی جائیگی۔ (2)(ردالمحتار)
مسئلہ ۷۶: بچہ چونکہ ماں کی پرورش میں ہوتا ہے لہٰذا جو دائی مقرر کی جائے وہ ماں کے پاس دودھ پلایاکرے مگر نوکر رکھتے وقت یہ شرط نہ کرلی گئی ہو کہ تجھے یہاں رہ کر دودھ پلانا ہوگا تو دائی پر یہ واجب نہ ہوگا کہ وہاں رہے بلکہ دودھ پلا کر چلی جاسکتی ہے یا کہہ سکتی ہے کہ میں وہاں نہیں پلاؤں گی یہاں پلادونگی یا گھر لیجا کر پلاؤں گی۔ (3)(خانیہ)
مسئلہ ۷۷: اگر لونڈی سے بچہ پیدا ہوا تو وہ دودھ پلانے سے انکار نہیں کرسکتی۔(4) (عالمگيری)
مسئلہ ۷۸: باپ کو اختیار ہے کہ دائی سے دودھ پلوائے، اگرچہ ماں پلانا چاہتی ہو۔ (5)(عالمگيری)
مسئلہ ۷۹: بچہ کی ماں نکاح میں ہو یا طلاقِ رجعی کی عدت میں اگر دودھ پلائے تو اس کی اُجرت نہیں لے سکتی اور طلاقِ بائن کی عدت میں لے سکتی ہے اور اگر دوسری عورت کے بچہ کو جو اُسی شوہر کا ہے دودھ پلائے تو مطلقاًاجرت لے سکتی ہے اگرچہ نکاح میں ہو۔ (6)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۸۰: عدت گزرنے کے بعد مطلقاً اُجرت لے سکتی ہے اور اگر شوہر نے دوسری عورت کو مقرر کیا اور ماں مفت پلانے کو کہتی ہے یا اُتنی ہی اُجرت مانگتی ہے جتنی دوسری عورت مانگتی ہے تو ماں کو زیادہ حق ہے اور اگر ماں اُجرت مانگتی ہے اور