مسئلہ ۶۸: بچہ کی ملک میں کوئی جائداد منقولہ یا غیر منقولہ ہواور نفقہ کی حاجت ہو تو بیچ کر خرچ کی جائے اگرچہ سب رفتہ رفتہ کرکے خرچ ہوجائے۔(1) (عالمگيری)
مسئلہ ۶۹: لڑکی جب جوان ہوگئی اور اُس کی شادی کردی تو اب شوہر پرنفقہ ہے باپ سبکدوش ہوگیا۔ (2)(عالمگيری)
مسئلہ ۷۰: بچہ جب تک ماں کی پرورش میں ہے اخراجات بچہ کی ماں کے حوالہ کرے یا ضرورت کی چیزیں مہیا کردے اور اگر کوئی مقدار معین کرلی گئی تو اس میں بھی حرج نہیں اور جو مقدار معین ہوئی اگر وہ اتنی زیادہ ہے کہ اندازہ سے باہرہے تو کم کردی جائے اور اگر اندازہ سے باہر نہیں تو معاف ہے اور کم ہے تو کمی پوری کی جائے۔(3) (عالمگيری)
مسئلہ ۷۱: کسی اور کی کنیز سے نکاح کیا اور بچہ پیدا ہواتو یہ اُسی کی مِلک (4) ہے جس کی مِلک میں اس کی ماں ہے اور اس کا نفقہ باپ پر نہیں بلکہ مولیٰ پر ہے اس کا باپ آزاد ہو یا غلام، باپ پر نہیں اگرچہ مالدار ہو۔ اور اگر غلام یا مدبر یا مکاتب نے مولیٰ (5)کی اجازت سے نکاح کیاا ور اولاد پیدا ہوئی توان پر نہیں بلکہ اگر ماں مدبرہ یا ام ولد یا کنیز ہے تو مولیٰ پر ہے اور آزاد یا مکاتبہ ہے تو ماں پر اور اگر ماں کے پاس مال نہ ہو تو سب رشتہ داروں میں جو قریب تر ہے اُس پر ہے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۷۲: ماں نے اگر بچہ کا نفقہ اُس کے باپ سے لیا اور چوری گیا یا اور کسی طریقہ سے ہلاک ہوگیا تو پھر دوبارہ نفقہ لے گی اور بچ رہاتو واپس کرے گی۔(7) (درمختار)
مسئلہ ۷۳: باپ مرگیا اُس نے نا بالغ بچے اور اموال چھوڑے تو بچوں کانفقہ اُن کے حصوں میں سے دیا جائیگا۔ یوہیں ہر وارث کانفقہ اُس کے حصہ میں سے دیا جائیگا پھر اگر میت نے کسی کو وصی کیا ہے تو یہ کام وصی کاہے کہ ان کے حصوں سے نفقہ دے اور وصی کسی کونہ کیا ہو تو قاضی کاکام ہے کہ نابالغوں کانفقہ اُن کے حصوں سے دے یا قاضی کسی کو وصی بنادے کہ وہ خرچ کرے اور اگر وہاں قاضی نہ ہواور میت کے بالغ لڑکوں نے نابالغوں پر اُن کے حصوں سے خرچ کیا تو قضاءً ان کو تاوان دینا ہوگا اور دیانۃًنہیں۔ یوہیں اگر سفرمیں دوشخص ہیں اُن میں سے ایک بیہوش ہوگیا دوسرے نے اُس کا مال اُس پر صرف کیا یا ایک مرگیا دوسرے نے اُس کے مال سے تجہیز و تکفین کی تو دیانۃًتاوان لازم نہیں۔(8) (عالمگیری)