جی بہلتا رہے گا اور بیکار بیٹھے گی تو وسوسے اور خطرے پیدا ہوتے رہیں گے اور لا یعنی باتوں میں مشغول ہوگی۔(1) (ردالمحتار)
مسئلہ۶۴: نابالغ اولاد کانفقہ باپ پر واجب ہے جبکہ اولاد فقیر ہو یعنی خود اس کی مِلک میں مال نہ ہو اور آزاد ہو۔ اور بالغ بیٹا اگر اپاہج یا مجنون یا نابینا ہو کمانے سے عاجز ہو اور اُس کے پاس مال نہ ہو تو اُس کا نفقہ بھی باپ پر ہے اور لڑکی جبکہ مال نہ رکھتی ہو تو اُس کانفقہ بہر حال باپ پر ہے اگرچہ اُس کے اعضا سلامت ہوں۔ اور اگر نا بالغ کی مِلک میں مال ہے مگر یہاں مال موجود نہیں تو باپ کو حکم دیاجائے گا۔ کہ اپنے پاس سے خرچ کرے جب مال آئے تو جتنا خرچ کیا ہے اُس میں سے لے لے اور اگر بطورِ خود خرچ کیا ہے اور چاہتا ہے کہ مال آنے کے بعد اُس میں سے لے لے تو لوگوں کو گواہ بنا ئے کہ جب مال آئے گا میں لے لوں گا اور گواہ نہ کيے تو دیانۃًلے سکتا ہے قضاءً نہیں۔(2) (جوہرہ)
مسئلہ۶۵: نابالغ کا باپ تنگ دست ہے اور ماں مالدار جب بھی نفقہ باپ ہی پر ہے مگر ماں کو حکم دیا جائیگا کہ اپنے پاس سے خرچ کرے اور جب شوہر کے پاس ہو تو وصول کرلے۔(3) (جوہرہ)
مسئلہ۶۶: اگر باپ مفلس ہے تو کمائے اور بچوں کو کھلائے اور کمانے سے بھی عاجز ہے مثلاًاپاہج ہے تو دادا کے ذمہ نفقہ ہے کہ خود باپ کانفقہ بھی اس صورت میں اُسی کے ذمہ ہے۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ۶۷: طالب علم کہ علم دین پڑھتا ہواور نیک چلن ہو اُس کا نفقہ بھی اُس کے والد کے ذمہ ہے وہ طلبہ مراد نہیں جو فضولیات ولغویات فلاسفہ میں مشتغل ہوں اگر یہ باتیں ہوں تو نفقہ باپ پر نہیں۔(5) (عالمگيری، درمختار)
وہ طلبہ بھی اس سے مراد نہیں جو بظاہر علم دین پڑھتے اور حقیقہً دین ڈھانا چاہتے ہیں مثلاً وہابیوں سے پڑھتے ہیں اُن کے پاس اُٹھتے بیٹھتے ہیں کہ ایسوں سے عموماًیہی مشاہدہ ہورہا ہے کہ بدباطنی و خباثت اور اﷲ (عزوجل) و رسول (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی جناب میں گستاخی کرنے میں اپنے اساتذہ سے بھی سبقت لے گئے۔ ایسوں کانفقہ درکنار اُنکو پاس بھی نہ آنے دینا چاہيے ایسی تعلیم سے تو جاہل رہنا اچھا تھا کہ اس نے تو مذہب و دین سب کو برباد کیا اور نہ فقط اپنا بلکہ وہ تم کوبھی لے ڈوبے گا۔ ؎
بے ادب تنہا نہ خودراداشت بد بلکہ آتش درہمہ آفاق زد(6)