چاہيے، اس میں تفصیل ہے اگر شوہر مالدار ہو تو ایسا مکان دے جس میں یہ ضروریات ہوں اور غریبوں میں خالی ایک کمرہ دے دینا کافی ہے، اگرچہ غسل خانہ وغیرہ مشترک ہو۔(1) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ۶۰: یہ بات ضروری ہے کہ عورت کو ایسے مکان میں رکھے جس کے پڑوسی صالحین ہوں کہ فاسقوں میں خود بھی رہنا اچھا نہیں نہ کہ ایسے مقام پر عورت کا ہونا اور اگر مکان بہت بڑا ہو کہ عورت وہاں تنہا رہنے سے گھبراتی اور ڈرتی ہے تو وہاں کوئی ایسی نیک عورت رکھے جس سے دل بستگی ہویا عورت کو کوئی دوسرا مکان دے جو اتنا بڑانہ ہو اور اُس کے ہمسایہ نیک لوگ ہوں۔(2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ۶۱: عورت کے والدین ہر ہفتہ میں ایک بار اپنی لڑکی کے یہاں آسکتے ہیں شوہر منع نہیں کرسکتا، ہاں اگر رات میں وہاں رہنا چاہتے ہیں تو شوہر کومنع کرنے کا اختیار ہے اور والدین کے علاوہ اور محارم (3)سال بھر میں ایک بار آسکتے ہیں۔ یوہیں عورت اپنے والدین کے یہاں ہر ہفتہ میں ایک بار اور دیگر محارم کے یہاں سا ل میں ایک بار جاسکتی ہے، مگر رات میں بغیر اجازت شوہر وہاں نہیں رہ سکتی، دن ہی دن میں واپس آئے اور والدین یا محارم اگر فقط دیکھنا چاہیں تو اس سے کسی وقت منع نہیں کرسکتا۔ اور غیروں کے یہاں جانے یا اُن کی عیادت کرنے یا شادی وغیرہ تقریبوں کی شرکت سے منع کرے بغیر اجازت جائے گی تو گنہگار ہوگی اور اجازت سے گئی تو دونوں گنہگار ہوئے۔ (4)(درمختار، عالمگيری)
مسئلہ۶۲: عورت اگر کوئی ایساکام کرتی ہے جس سے شوہر کا حق فوت ہوتا ہے یااُس میں نقصان آتا ہے یا اُس کام کے ليے باہر جانا پڑتا ہے تو شوہر کو منع کردینے کااختیار ہے۔ (5)(درمختار) بلکہ نظر بحالِ زمانہ ایسے کام سے تو منع ہی کرنا چاہیے جس کے ليے باہر جانا پڑے۔
مسئلہ۶۳: جس کام میں شوہر کی حق تلفی نہ ہوتی ہو نہ نقصان ہواگر عورت گھر میں وہ کام کرلیا کرے جیسے کپڑا سینا یا اگلے زمانہ میں چرخہ کاتنے کا رواج تھا تو ایسے کام سے منع کرنے کی کچھ حاجت نہیں خصوصاً جبکہ شوہر گھر نہ ہو کہ ان کاموں سے