یا شوہر کہتا ہے کہ یہ زیادہ ہے اس سے کم میں کام چل جائیگا کیونکہ اب ارزانی ہے یا مقرر ہی زیادہ مقدار ہوئی اور قاضی کو بھی معلوم ہوگیا کہ یہ رقم زائد ہے تو کم کردی جائے۔(1) (درمختار)
مسئلہ۵۰: چند مہینے کانفقہ باقی تھا او ردونوں میں سے کوئی مرگیا تونفقہ ساقط ہوگیا ہاں ا گر قاضی نے عورت کو حکم دیاتھا کہ قرض لیکر صرف کرے پھر کوئی مرگیا تو ساقط نہ ہوگا۔ طلاق سے بھی پیشتر کا نفقہ ساقط ہوجاتا ہے مگر جبکہ اسی ليے طلاق دی ہو کہ نفقہ ساقط ہوجائے تو ساقط نہ ہوگا۔(2) (درمختار)
مسئلہ۵۱: عورت کو پیشگی نفقہ دے دیا تھا پھر اُن میں سے کسی کا انتقال ہوگیا یا طلاق ہوگئی تو وہ دیا ہوا واپس نہیں ہوسکتا۔ یوہیں اگر شوہر کے باپ نے اپنی بہو کو پیشگی نفقہ دے دیا تو موت یا طلاق کے بعد وہ بھی واپس نہیں لے سکتا۔(3) (درمختار)
مسئلہ۵۲: مرد نے عورت کے پاس کپڑے یا روپے بھیجے عورت کہتی ہے ہدیۃً بھیجے اور مرد کہتا ہے نفقہ میں بھیجے تو شوہر کا قول معتبر ہے ہاں اگر عورت گواہوں سے ثابت کردے کہ ہدیۃًبھیجے یا یہ کہ شوہر نے اس کا اقرار کیا تھا اور گواہوں نے اُس کے اقرار کی شہادت دی تو گواہی مقبول ہے۔(4) (عالمگيری)
مسئلہ۵۳: غلام نے مولیٰ کی اجازت سے نکاح کیا ہے تو اگر غلام خالص ہے یعنی مدبر ومکاتب نہ ہو تو اُسے بیچ کر اُس کی عورت کا نفقہ ادا کریں پھر بھی باقی رہ جائے تو یکے بعد دیگرے (5) بیچتے رہیں یہاں تک کہ نفقہ ادا ہوجائے بشرطیکہ خریدار کو معلوم ہو کہ نفقہ کی وجہ سے بیچا جارہا ہے اور اگر خریدتے وقت اُسے معلوم نہ تھا بعد کو معلوم ہوا تو خریدار کو بیع ردکرنے کااختیار ہے اور اگر بیع کو قائم رکھا تو ثابت ہوا کہ راضی ہے لہٰذا اب اسے کوئی عذر نہیں اور اگر مولیٰ بیچنے سے انکار کرتا ہے تو مولیٰ کے سامنے قاضی بیع کردے گا مگر نفقہ میں بیچنے کے ليے یہ شرط ہے کہ نفقہ اتنا اُس کے ذمہ باقی ہو کہ ادا کرنے سے عاجز ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مولیٰ اپنے پاس سے نفقہ دیکر اپنے غلام کو چُھڑا لے اور اگر وہ غلام مدبر یا مکاتب ہو جو بدلِ کتا بت ادا کرنے سے عاجز نہیں تو بیچا نہ جائے بلکہ کما کر نفقہ کی مقدار پوری کرے۔ اور اگر جس عورت سے نکاح کیا ہے وہ اس کے مولیٰ کی کنیز ہے تو اس پر نفقہ واجب ہی نہیں۔(7) (خانیہ ،درمختار)