تک مدت پوری نہ ہو دینا واجب نہیں اور اگر مدت کے اندر پھاڑڈالا اور عادۃًجس طرح پہنا جاتا ہے اُس طرح پہنتی تو نہیں پھٹتا تو دوسرے کپڑے اس ششماہی میں واجب نہیں ورنہ واجب ہیں اور اگر مدت پوری ہوگئی اور وہ جوڑا باقی ہے تو اگرپہنا ہی نہیں یا کبھی اُس کو پہنتی تھی اور کبھی اور کپڑے اس وجہ سے باقی ہے تو اب دوسرا جوڑا دینا واجب ہے اور اگر یہ وجہ نہیں بلکہ کپڑا مضبوط تھا اس وجہ سے نہیں پھٹا تو دوسرا جوڑا واجب نہیں۔ (1)(جوہرہ)
مسئلہ۳۷: جاڑوں میں(2)جاڑے کے مناسب اور گرمیوں میں گرمی کے مناسب کپڑے دے مگر بہر حال اس کا لحاظ ضرور ی ہے کہ اگر دونوں مالدار ہوں تو مالداروں کے سے کپڑے ہوں اور محتاج ہوں تو غریبوں کے سے اور ایک مالدار ہو اور ایک محتاج تو متوسط جیسے کھانے میں تینوں باتوں کا لحاظ ہے۔ اور لباس میں اُس شہر کے رواج کااعتبار ہے جاڑے گرمی میں جیسے کپڑوں کا وہاں چلن (3)ہے وہ دے چمڑے کے موزے عورت کے ليے شوہر پر واجب نہیں مگر عورت کی باندی(4) کے موزے شوہر پر واجب ہیں۔ اور سوتی، اونی موزے جو جاڑوں میں سردی کی وجہ سے پہنے جاتے ہیں یہ دینے ہونگے۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ۳۸: عورت جب رخصت ہو کر آئی تو اسی وقت سے شوہر کے ذمے اُس کا لباس ہے اس کاانتظار نہ کریگا کہ چھ مہینے گزر لیں تو کپڑے بنائے اگرچہ عورت کے پاس کتنے ہی جوڑے ہوں نہ عورت پر یہ واجب کہ میکے سے جو کپڑے لائی ہے وہ پہنے بلکہ اب سب شوہر کے ذمہ ہے۔ (6)(ردالمحتار)
مسئلہ۳۹: شوہر کو خود ہی چاہیے کہ عورت کے مصارف اپنے ذمہ لے یعنی جس چیز کی ضرورت ہو لا کر یا منگا کر دے۔ اور اگر لانے میں ڈھیل ڈالتا ہے(7) توقاضی کوئی مقدار وقت اور حال کے لحاظ سے مقرر کردے کہ شوہر وہ رقم دے دیاکرے اور عورت اپنے طور پر خرچ کرے۔ اور اگر اپنے او پر تکلیف اُٹھا کر عورت اس میں سے کچھ بچالے تووہ عورت کا ہے واپس نہ کریگی نہ آئندہ کے نفقہ میں مُجرا دیگی (8)اور اگر شوہر بقدرِ کفایت عورت کونہیں دیتا تو بغیر اجازتِشوہر عورت اُس کے مال