اُسے دے اور اگر عورت خود پکاتی ہے مگر پکانے کی اُجرت مانگتی ہے تو اُجرت نہیں دی جائے گی۔(1) (عالمگيری، درمختار)
مسئلہ۳۱: کھانا پکانے کے تمام برتن اور سامان شوہر پر واجب ہے، مثلاً چکی، ہانڈی، توا، چمٹا، رکابی، پیالہ، چمچہ وغیرہا جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے حسبِ حیثیت اعلیٰ، ادنیٰ متوسط۔ یوہیں حسبِ حیثیت اثاث البیت دینا واجب، مثلاً چٹائی، دری، قالین، چارپائی، لحاف، توشک(2)، تکیہ، چادر وغیرہا۔ یوہیں کنگھا، تیل، سر دھونے کے ليے کَھلی(3)وغیرہ اور صابن یا بیسن (4)میل دور کرنے کے ليے اور سُرمہ، مِسی(5)، مہندی دینا شوہر پر واجب نہیں، اگر لائے تو عورت کو استعمال ضروری ہے۔ عطر وغیرہ خوشبو کی اتنی ضرورت ہے جس سے بغل اور پسینہ کی بُو کو دفع کرسکے۔ (6)(جوہرہ وغیرہا)
مسئلہ۳۲: غسل ووضو کا پانی شوہر کے ذمہ ہے عورت غنی ہو یا فقير۔ (7)(عالمگيری)
مسئلہ۳۳: عورت اگر چائے یا حقہ پیتی ہے تو ان کے مصارف شوہر پر واجب نہیں اگرچہ نہ پینے سے اُس کو ضرر پہنچے گا۔ (8)(ردالمحتار) یوہیں پان، چھالیا، تمباکو شوہر پر واجب نہیں۔
مسئلہ۳۴ : عورت بیمار ہو تو اُس کی دوا کی قیمت اور طبیب کی فیس شوہر پر واجب نہیں۔ فصد یا پچھنے کی ضرورت ہو تو یہ بھی شوہر پر نہیں۔(9) (جوہرہ)
مسئلہ۳۵: بچہ پیدا ہو تو جنائی کی اُجرت شوہر پر ہے اگر شوہر نے بُلایا۔ اور عورت پر ہے اگر عورت نے بلوایا۔ اور اگر وہ خود بغیر ان دونوں میں کسی کے بُلائے آجائے تو ظاہر یہ ہے کہ شوہر پر ہے۔ (10)(بحر، ردالمحتار)
مسئلہ۳۶: سال میں دو ۲ جوڑے کپڑے دینا واجب ہے ہر ششماہی پر ایک جوڑا۔ جب ایک جوڑا کپڑا دیدیا تو جب