Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8)
260 - 282
    حدیث ۷: ابوداود و ابن ماجہ بروایت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ راوی کہ ایک شخص نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی، کہ میرے پاس مال ہے اور میرے والد کو میرے مال کی حاجت ہے؟ فرمايا: ''تو اور تیرا مال تیرے باپ کے ليے ہیں، تمھاری اولاد تمھاری عمدہ کمائی سے ہیں، اپنی اولاد کی کمائی کھاؤ۔'' (1)
(مسائل فقہیّہ)
    مسئلہ ۱: نفقہ سے مراد کھاناکپڑا رہنے کا مکان ہے اور نفقہ واجب ہونے کے تین سبب ہیں زوجیت(2) ۔ نَسب۔ مِلک(3) ۔ (4)(جوہرہ ، درمختار) 

    مسئلہ ۲: جس عورت سے نکاح صحیح ہوا اُس کا نفقہ شوہر پر واجب ہے عورت مسلمان ہو یا کافرہ، آزاد ہو یا مکاتبہ، محتاج ہو یا مالدار، دخول ہوا ہو یا نہیں، بالغہ ہویا نا بالغہ مگر نابالغہ میں شرط یہ ہے کہ جماع کی طاقت رکھتی ہو یا مشتہاۃ ہو۔ اور شوہرکی جانب کوئی شرط نہیں بلکہ کتنا ہی صغیرالسِن (5) ہواُس پرنفقہ واجب ہے اُس کے مال سے دیا جائے گا۔ اور اگر اُس کی ملک میں مال نہ ہو تو اُس کی عورت کا نفقہ اُس کے باپ پر واجب نہیں ہاں اگر اُس کے باپ نے نفقہ کی ضمانت کی ہو تو باپ پرواجب ہے شوہر عنین ہے یا اُسکا عضوتناسُل کٹا ہوا ہے یا مریض ہے کہ جماع کی طاقت نہیں رکھتا یا حج کو گیا ہے جب بھی نفقہ واجب ہے۔(6) (عالمگیری، درمختار) 

    مسئلہ ۳: نا بالغہ جو قابلِ جماع نہ ہو اُس کا نفقہ شوہر پر واجب نہیں، خواہ شوہر کے یہاں ہو یا اپنے باپ کے گھر جب تک قابلِ وطی نہ ہو جائے ہاں اگر اس قابل ہو کہ خدمت کر سکے یا اُس سے اُنس حاصل ہو سکے اور شوہر نے اپنے مکان میں رکھاتو نفقہ واجب ہے اور نہیں رکھا تو نہیں۔ (7)(عالمگيری، درمختار)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''، کتاب البیوع، باب فی الرجل یأکل من مال ولدہ، الحدیث: ۳۵۳۰، ج۳، ص۴۰۳.

2۔۔۔۔۔۔ نکاح میں ہونا۔                    3۔۔۔۔۔۔ مِلکیت۔

4۔۔۔۔۔۔''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب النفقات، الجزء الثانی،ص۱۰۸.

و''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب النفقۃ، ج۵، ص۲۸۳. 

5۔۔۔۔۔۔ کم عمر۔

6۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع عشر، الفصل الاول في نفقۃ الزوجۃ، ج۱، ص۵۴۴.

و''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ ،ج۵، ص۲۸۳. 

7۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع عشر، الفصل الاول في نفقۃ الزوجۃ، ج۱، ص۵۴۴.

و''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب النفقۃ ،ج۵، ص۲۸۶.
Flag Counter