ساتھ تم نے اُنکو لیا اور اﷲ (عزوجل) کے کلمہ کے ساتھ اُن کے فروج کو حلال کیا، تمھارا اُن پر یہ حق ہے کہ تمھارے بچھونوں پر (مکانوں میں) ایسے شخص کو نہ آنے دیں جس کو تم نا پسند رکھتے ہو اور اگر ایسا کریں تو تم اس طرح مارسکتے ہو جس سے ہڈی نہ ٹوٹے اور اُن کا تم پر یہ حق ہے کہ اُنھیں کھانے اور پہننے کو دستور کے موافق دو۔'' (1)
حدیث ۲: صحیحین میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی، کہ ہند بنت عتبہ نے عرض کی، یا رسول اﷲ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ابوسفیان (میرے شوہر) بخیل ہیں، وہ مجھے اتنا نفقہ نہیں دیتے جو مجھے او ر میری اولاد کو کافی ہو مگر اُس صورت میں کہ اُن کی بغیر اطلاع میں کچھ لے لوں (تو آیا اس طرح لینا جائز ہے؟) فرمايا: کہ ''اُس کے مال میں سے اتنا تو لے سکتی ہے جو تجھے اور تیرے بچوں کو دستور کے موافق خرچ کے ليے کافی ہو۔'' (2)
حدیث ۳: صحیح مسلم میں جابر بن سمرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمايا: ''جب خدا کسی کو مال دے تو خود اپنے اور گھر والوں پرخرچ کرے۔'' (3)
حدیث ۴: صحیح بخاری میں ابو مسعود انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمايا: ''مسلمان جو کچھ اپنے اہل پر خرچ کرے اور نیت ثواب کی ہو تو یہ اُس کے ليے صدقہ ہے۔'' (4)
حدیث ۵: بخاری شریف میں سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمايا: ''جو کچھ تو خرچ کریگا وہ تیرے ليے صدقہ ہے، یہاں تک کہ لقمہ جو بی بی کے مونھ میں اُٹھا کر دیدے۔'' (5)
حدیث ۶: صحیح مسلم شریف میں عبداﷲ بن عمرو (6)رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: کہ ''آدمی کو گنہگار ہونے کے ليے اتنا کافی ہے کہ جس کا کھانا اس کے ذمہ ہو، اُسے کھانے کو نہ دے۔'' (7)