Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8)
259 - 282
ساتھ تم نے اُنکو لیا اور اﷲ (عزوجل) کے کلمہ کے ساتھ اُن کے فروج کو حلال کیا، تمھارا اُن پر یہ حق ہے کہ تمھارے بچھونوں پر (مکانوں میں) ایسے شخص کو نہ آنے دیں جس کو تم نا پسند رکھتے ہو اور اگر ایسا کریں تو تم اس طرح مارسکتے ہو جس سے ہڈی نہ ٹوٹے اور اُن کا تم پر یہ حق ہے کہ اُنھیں کھانے اور پہننے کو دستور کے موافق دو۔'' (1)

    حدیث ۲: صحیحین میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی، کہ ہند بنت عتبہ نے عرض کی، یا رسول اﷲ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ابوسفیان (میرے شوہر) بخیل ہیں، وہ مجھے اتنا نفقہ نہیں دیتے جو مجھے او ر میری اولاد کو کافی ہو مگر اُس صورت میں کہ اُن کی بغیر اطلاع میں کچھ لے لوں (تو آیا اس طرح لینا جائز ہے؟) فرمايا: کہ ''اُس کے مال میں سے اتنا تو لے سکتی ہے جو تجھے اور تیرے بچوں کو دستور کے موافق خرچ کے ليے کافی ہو۔'' (2)

    حدیث ۳: صحیح مسلم میں جابر بن سمرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمايا: ''جب خدا کسی کو مال دے تو خود اپنے اور گھر والوں پرخرچ کرے۔'' (3)

    حدیث ۴: صحیح بخاری میں ابو مسعود انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمايا: ''مسلمان جو کچھ اپنے اہل پر خرچ کرے اور نیت ثواب کی ہو تو یہ اُس کے ليے صدقہ ہے۔'' (4)

    حدیث ۵: بخاری شریف میں سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمايا: ''جو کچھ تو خرچ کریگا وہ تیرے ليے صدقہ ہے، یہاں تک کہ لقمہ جو بی بی کے مونھ میں اُٹھا کر دیدے۔'' (5)

    حدیث ۶: صحیح مسلم شریف میں عبداﷲ بن عمرو (6)رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: کہ ''آدمی کو گنہگار ہونے کے ليے اتنا کافی ہے کہ جس کا کھانا اس کے ذمہ ہو، اُسے کھانے کو نہ دے۔'' (7)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''صحیح مسلم''، کتاب الحج، باب حجۃ النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم، الحدیث: ۱۲۱۸، ص۶۳۴ .

2۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''، کتاب النفقات، باب اذالم ینفق الرجل... إلخ، الحدیث: ۵۳۶۴، ج۳، ص۵۱۶.

3۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الامارۃ، باب الناس تبع لقریش... إلخ، الحدیث: ۱۸۲۲، ص۱۰۱۳ .

4۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''، کتاب النفقات، باب فضل النفقۃ علی الاھل... إلخ، الحدیث: ۵۳۵۱، ج۳، ص۵۱۱.

5۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''، کتاب النفقات، باب اذالم ینفق الرجل... إلخ، الحدیث: ۵۳۵۴، ج۳، ص۵۱۲.

6۔۔۔۔۔۔بہار شریعت کے نسخوں میں اس مقام پر '' عبد اللہ بن عمر '' رضی اللہ تعالیٰ عنہما لکھا ہے ،جو کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے کیونکہ یہ حدیث پاک 

'' صحیح مسلم '' میں حضرت سیدنا' 'عبد اللہ بن عمرو '' رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے، اسی وجہ سے ہم نے متن میں درستگی کی ہے ۔...عِلْمِیہ 

7۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الزکاۃ، باب فضل النفقۃ علی العیال... إلخ، الحدیث: ۹۹۴، ص۴۹۹.
Flag Counter