مالدار شخص اپنی وسعت کے لائق خرچ کرے اورجس کی روزی تنگ ہے، وہ اُس میں سے خرچ کرے جو اُسے خدا نے دیا، اﷲ (عزوجل) کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اُتنی ہی جتنی اُسے طاقت دی ہے، قریب ہے کہ اﷲ (عزوجل) سختی کے بعد آسانی پیدا کر دے۔
اور فرماتا ہے:
(وَعَلَی الْمَوْلُوۡدِ لَہٗ رِزْقُہُنَّ وَکِسْوَتُہُنَّ بِالْمَعْرُوۡفِ ؕ لَا تُکَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَہَا ۚ لَا تُضَآرَّ وَالِدَۃٌۢ بِوَلَدِہَا وَلَا مَوْلُوۡدٌ لَّہٗ بِوَلَدِہٖ ٭ وَعَلَی الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِکَ ۚ ) (3)
جس کا بچہ ہے اُس پر عورتوں کو کھانا اور پہننا ہے دستور کے موافق کسی جان پر تکلیف نہیں دی جاتی مگر اُس کی گنجائش کے لائق ماں کو اُس کے بچہ کے سبب ضرر نہ دیا جائے اور نہ باپ کو اُس کی اولاد کے سبب اورجو باپ کے قائم مقام ہے اُس پر بھی ایسا ہی واجب ہے۔
اور فرماتا ہے:
(اَسْکِنُوۡہُنَّ مِنْ حَیۡثُ سَکَنۡتُمۡ مِّنۡ وُّجْدِکُمْ وَ لَا تُضَآرُّوۡہُنَّ لِتُضَیِّقُوۡا عَلَیۡہِنَّ ؕ ) (4)
عورتوں کو وہاں رکھو جہاں خود رہو اپنی طاقت بھر اور اُنھیں ضرر نہ دو کہ اُن پر تنگی کرو۔
حدیث ۱: صحیح مسلم شریف میں حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں ارشاد فرمايا: ''عورتوں کے بارے میں خدا سے ڈرو کہ وہ تمھارے پاس قیدی کی مثل ہیں، اﷲ (عزوجل) کی امانت کے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح،فصل في الحضانۃ،ج۱،ص۱۹۴.
2۔۔۔۔۔۔پ۲۸،الطلاق:۷.
3۔۔۔۔۔۔پ۲،البقرۃ:۲۳۳.
4۔۔۔۔۔۔پ۲۸،الطلاق:۶.