مسئلہ ۱۸: لڑکی کو بھی عقائد و ضروری مسائل سکھانے کے بعد کسی عورت سے سلائی اور نقش و نگار وغیرہ ایسے کام سکھائیں جن کی عورتوں کو اکثر ضرورت پڑتی ہے اور کھانا پکانے اور دیگر امور ِخانہ داری میں اُسکو سلیقہ ہونے کی کوشش کریں کہ سلیقہ والی عورت جس خوبی سے زندگی بسر کرسکتی ہے بدسلیقہ نہیں کرسکتی۔ (1)
مسئلہ ۱۹: لڑکی کو نوکر نہ رکھائیں کہ جس کے پاس نوکر رہے گی کبھی ایسا بھی ہوگا کہ مرد کے پاس تنہا رہے اور یہ بڑ ے عیب کی بات ہے۔ (2)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: زمانہ پرورش میں باپ یہ چاہتا ہے کہ عورت سے بچہ لے کر کہیں دوسری جگہ چلا جائے تو اُس کو یہ اختیار حاصل نہیں اور اگر عورت چاہتی ہے کہ بچہ کولے کر دوسرے شہر کو چلی جائے اور دونوں شہروں میں اتنا فاصلہ ہے کہ باپ اگر بچہ کو دیکھنا چاہے تو دیکھ کر رات آنے سے پہلے واپس آسکتا ہے تو لے جا سکتی ہے اور اس سے زیادہ فاصلہ ہے تو خود بھی نہیں جاسکتی۔ یہی حکم ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں یا گاؤں سے شہر میں جانے کا ہے کہ قریب ہے توجائز ہے ورنہ نہیں۔ اور شہر سے گاؤں میں بغیر اجازت نہیں لے جاسکتی، ہاں اگر جہاں جانا چاہتی ہے وہاں اُ س کا میکاہے اور وہیں اُس کا نکاح ہوا ہے تو لے جاسکتی ہے اور اگر اُس کا میکا ہے مگر وہاں نکاح نہیں ہوا بلکہ نکاح کہیں اور ہوا ہے تو نہ میکے لے جاسکتی ہے، نہ وہاں جہاں نکاح ہوا، ماں کے علاوہ کوئی اور پرورش کرنے والی لے جانا چاہتی ہو تو باپ کی اجازت سے لے جاسکتی ہے۔ مسلمان یا ذمی عورت بچہ کو دارالحرب میں مطلقاً نہیں لیجاسکتی، اگرچہ وہیں نکاح ہوا ہو۔ (3)(درمختار، ردالمحتار، عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۲۱: عورت کو طلاق دیدی اُس نے کسی اجنبی سے نکاح کرلیا تو باپ بچہ کو اُس سے لے کر سفر میں لے جاسکتا ہے جبکہ کوئی اور پرورش کا حقدار نہ ہو ورنہ نہیں۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۲۲: جب پرورش کازمانہ پورا ہوچکا اور بچہ باپ کے پاس آگیا تو باپ پر یہ واجب نہیں کہ بچہ کو اُس کی ماں کے پاس بھیجے نہ پرورش کے زمانہ میں ماں پر باپ کے پاس بھیجنا لازم تھا ہاں اگر ایک کے پاس ہے اور دوسرااُسے دیکھنا چاہتا ہے تودیکھنے سے منع نہیں کیا جاسکتا۔(5) (درمختار)