اور تا دیب کی ضرورت ہو تو باپ دادا وغیرہ کے پاس رہے گا خود مختار نہ ہوگامگربالغ ہونے کے بعد باپ پر نفقہ واجب نہیں اب اگر اخراجات کا متکفل ہو(1) تو تبرع واحسان ہے۔(2) (عالمگیری ، درمختار) یہ حکم فقہی ہے مگر نظر بحالِ زمانہ خود مختار نہ رکھا جائے، جب تک چال چلن اچھی طرح درست نہ ہو لیں اور پورا وثوق (3) نہ ہولے کہ اب اس کی وجہ سے فتنہ و عار نہ ہوگا کہ آج کل اکثر صحبتیں مخرب اخلاق(4) ہوتی ہیں اور نو عمری میں فساد بہت جلد سرایت کرتا ہے۔
مسئلہ ۱۶: لڑکی نو برس کے بعد سے جب تک کو آری ہے باپ دادا بھائی وغیرہم کے یہاں رہے گی مگر جبکہ عمر رسیدہ ہو جائے اور فتنہ کا اندیشہ نہ ہو تو اُسے اختیار ہے جہاں چاہے رہے اور لڑکی ثیب ہے مثلاً بیوہ ہے اور فتنہ کا اندیشہ نہ ہو تو اُسے اختیار ہے، ورنہ باپ دادا وغیرہ کے یہاں رہے اور یہ ہم پہلے بیان کرچکے کہ چچا کے بیٹے کو لڑکی کے ليے حقِ پرورش نہیں یہی حکم اب بھی ہے کہ وہ محرم نہیں بلکہ ضرور ہے کہ محرم کے پاس رہے اور محرم نہ ہو تو کسی ثقہ امانت دار عورت کے پاس رہے جو اُس کی عفت کی حفاظت کرسکے اور اگر لڑکی ایسی ہو کہ فساد کا اندیشہ نہ ہو تو اختیار ہے۔ (5)(درمختار، ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: لڑکا بالغ نہ ہوا مگر کام کے قابل ہوگیا ہے تو باپ اُسے کسی کام میں لگادے جو کام سکھانا چاہے اُس کے جاننے والوں کے پاس بھیج دے کہ اُن سے کا م سیکھے نوکری یا مزدوری کے قابل ہو اور باپ اُس سے نوکری یا مزدوری کرانا چاہے تو نوکری یا مزدوری کرائے اور جو کمائے اُس پر صرف کرے اور بچ رہے تو اُس کے ليے جمع کرتا رہے اور اگر باپ جانتا ہے کہ میرے پاس خرچ ہوجائے گا تو کسی اور کے پاس امانت رکھ دے۔ (6)(درمختار) مگر سب سے مقدم یہ ہے کہ بچوں کو قرآ ن مجید پڑھائیں اور دین کی ضروری باتیں سکھائی جائیں روزہ و نماز و طہارت اور بیع واجارہ و دیگر معاملات کے مسائل جن کی روز مرّہ حاجت پڑتی ہے اور ناواقفی سے خلافِ شرع عمل کرنے کے جرم میں مبتلا ہوتے ہیں اُ ن کی تعلیم ہو اگر دیکھیں کہ بچہ کو علم کی طرف رجحان ہے اور سمجھ دار ہے تو علم دِین کی خدمت سے بڑھ کر کیا کام ہے اور اگر استطاعت نہ ہو تو تصحیح و تعلیمِ عقائد اور ضروری مسائل کی تعلیم کے بعد جس جائز کام میں لگائیں اختیار ہے۔