مگر عدت پوری ہوگئی تو حقِ پر ورش عود(1) کر آئیگا۔ (2)(ہدایہ وغیرہا)
مسئلہ ۱۱: پاگل اور بوہرے کو حقِ پرورش حاصل نہیں اور اچھے ہوگئے تو حق حاصل ہو جائیگا۔ یوہیں مرتد تھا، اب مسلمان ہوگيا تو پرورش کا حق اسے ملے گا۔ (3)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: بچہ نانی یا دادی کے پاس ہے اور وہ خیانت کرتی ہے تو پھوپی کو اختیار ہے کہ اُس سے لے لے۔ (4)(عالمگيری)
مسئلہ ۱۳: بچہ کا باپ کہتا ہے کہ اُس کی ماں نے کسی سے نکاح کر لیا اور ماں انکار کرتی ہے تو ماں کا قول معتبر ہے اور اگر یہ کہتی ہے کہ نکاح تو کیا تھا مگر اُس نے طلاق دیدی اور میراحق عود کر آیا تو اگر اتنا ہی کہا اور یہ نہ بتایاکہ کس سے نکاح کیا جب بھی ماں کا قول معتبر ہے اور اگر یہ بھی بتایا کہ فلاں سے نکاح کیا تھا تو اب جب تک وہ شخص طلاق کااقرار نہ کرے محض اس عورت کا کہنا کافی نہیں۔ (5)(خانیہ)
مسئلہ ۱۴: جس عورت کے ليے حقِ پرورش ہے اُس کے پاس لڑکے کو اُس وقت تک رہنے دیں کہ اب اسے اُس کی حاجت نہ رہے یعنی اپنے آپ کھاتا پیتا، پہنتا، استنجا کرلیتا ہو، اس کی مقدار سات برس کی عمر ہے اور اگر عمر میں اختلاف ہو تو اگر یہ سب کام خود کرلیتا ہو تو اُس کے پاس سے علیٰحدہ کرلیا جائے ورنہ نہیں اور اگر باپ لینے سے انکار کرے تو جبراً اُس کے حوالے کیا جائے اور لڑکی اُس وقت تک عورت کی پرورش میں رہے گی کہ حدِ شہوت کو پہنچ جائے اس کی مقدار نو برس کی عمر ہے اور اگر اس عمر سے کم میں لڑکی کا نکاح کر دیا گیا جب بھی اُسی کی پرورش میں رہے گی جس کی پرورش میں ہے نکاح کردینے سے حقِ پرورش باطل نہ ہوگا، جب تک مرد کے قابل نہ ہو۔(6) (خانیہ، بحر وغیرہما)
مسئلہ ۱۵: سات برس کی عمر سے بلوغ تک لڑکااپنے باپ یا دادا یا کسی اور ولی کے پاس رہے گا پھر جب بالغ ہوگیا اور سمجھ وال ہے کہ فتنہ یا بدنامی کا اندیشہ نہ ہوا ور تا دیب (7)کی ضرورت نہ ہو تو جہاں چاہے وہاں رہے اور اگر اِن باتوں کا اندیشہ ہو