کے ذمہ یہ سب بھی ہیں۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۶: ماں نے اگر پرورش سے انکار کر دیا پھر یہ چاہتی ہے کہ پرورش کرے تو رجوع کر سکتی ہے۔ (2)(ردالمحتار)
مسئلہ ۷: ماں اگر نہ ہو یا پرورش کی اہل نہ ہو یا انکار کر دیا یا اجنبی سے نکاح کیا تو اب حق پرورش نانی کے ليے ہے یہ بھی نہ ہو تو نانی کی ماں اس کے بعد دادی پر دادی بشرائط مذکورہ بالا پھر حقیقی بہن پھر اخیافی بہن پھر سوتیلی بہن پھر حقیقی بہن کی بیٹی پھر اخیافی بہن کی بیٹی پھر خالہ یعنی ماں کی حقیقی بہن پھر اخیافی پھر سوتیلی پھر سوتیلی بہن کی بیٹی پھر حقیقی بھتیجی پھر اخیافی بھائی کی بیٹی پھر سوتیلے بھائی کی بیٹی پھر اسی ترتیب سے پھوپیاں پھر ماں کی خالہ پھر باپ کی خالہ پھر ماں کی پھوپیاں پھر باپ کی پھوپیاں اور ان سب میں وہی ترتیب ملحوظ ہے کہ حقیقی پھر اخیافی پھر سوتیلی۔ اور اگر کوئی عورت پر ورش کرنے والی نہ ہو یا ہو مگر اسکا حق ساقط ہو تو عصبات بہ ترتیبِ ارث یعنی باپ پھر دادا پھر حقیقی بھائی پھر سوتیلا پھر بھتیجے پھر چچا پھر اس کے بیٹے مگر لڑکی کوچچا زاد بھائی کی پرورش میں نہ دیں خصوصاً جبکہ مشتہاۃ ہوا ور اگر عصبات بھی نہ ہوں تو ذوی الارحام کی پرورش میں دیں مثلاً اخیافی بھائی پھر اُسکا بیٹا پھر ماں کا چچا پھر حقیقی ماموں۔ چچا اور پھوپھی اور ماموں اور خالہ کی بیٹیوں کو لڑکے کی پرورش کاحق نہیں۔ (3)(درمختار ، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: اگر چند شخص ایک درجہ کے ہوں تو اُن میں جو زیادہ بہتر ہو پھر وہ کہ زیادہ پر ہیزگار ہو پھر وہ کہ اُن میں بڑا ہو حقدار ہے۔(4) (عالمگيری، درمختار)
مسئلہ ۹: بچہ کی ماں اگر ایسے مکان میں رہتی ہے کہ گھر والے بچہ سے بغض رکھتے ہیں تو باپ اپنے بچہ کو اُس سے لے لیگا یا عورت وہ مکان چھوڑدے اور اگر ماں نے بچہ کے کسی رشتہ دار سے نکاح کیا مگر وہ محرم نہیں جب بھی حق ساقط ہو جائیگا مثلاًاُس کے چچازاد بھائی سے ہاں اگر ماں کے بعد اُسی چچا کے لڑکے کا حق ہے یا بچہ لڑکا ہے تو ساقط نہ ہوگا۔ (5)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: اجنبی کے ساتھ نکاح کرنے سے حقِ پرورش ساقط ہوگیا تھا پھر اُس نے طلاق بائن دیدی یا رجعی دی