حدیث ا: امام احمد و ابوداود عبداﷲ بن عمرورضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ ایک عورت نے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) سے عرض کی، یا رسول اﷲ!( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم )میرا یہ لڑکا ہے میرا پیٹ اس کے ليے ظرف تھا اور میرے پستان اس کے ليے مشک اور میری گود اس کی محافظ تھی اور اس کے باپ نے مجھے طلاق دیدی اور اب اسکو مجھ سے چھیننا چاہتا ہے۔ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمايا: ''تو زیا دہ حقدار ہے، جب تک تو نکاح نہ کرے۔'' (1)
حدیث ۲: صحیحین میں براء بن عازب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ صلح حدیبیہ کے بعد دوسرے سال میں جب حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم عُمرہ قضا سے فارغ ہو کر مکہ معظمہ سے روانہ ہوئے تو حضرت حمزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی صاحبزادی چچا چچا کہتی پیچھے ہولیں۔ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اُنھیں لے لیا اور ہاتھ پکڑ لیا پھر حضرت علی و زید بن حارثہ و جعفر طیار رضی اﷲ تعالیٰ عنہم میں ہر ایک نے اپنے پاس رکھنا چاہا۔ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا، میں نے ہی اسے لیا اور میرے چچا کی لڑکی ہے اور حضرت جعفر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا، میرے چچا کی لڑکی ہے اور اس کی خالہ میری بی بی ہے اور حضرت زید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا، میرے (رضاعی) بھائی کی لڑکی ہے۔ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے لڑکی خالہ کو دلوائی اور فرمايا: کہ ''خالہ بمنزلہ ماں کے ہے اور حضرت علی سے فرمايا: کہ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے اور حضرت جعفر سے فرمايا: کہ تم میری صورت اور سیرت میں مشابہ ہو اور حضرت زید سے فرمايا: کہ تم ہمارے بھائی اور ہمارے مولیٰ ہو۔'' (2)