Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8)
251 - 282
ہونامشہورنہیں ہے، جب بھی وارث نہ ہوگی۔(1) (عالمگیری وغیرہ) 

    مسئلہ ۱۳: عورت کا بچہ خود عورت کے قبضہ میں ہے شوہر کے قبضہ میں نہیں اُس کی نسبت عورت یہ کہتی ہے کہ یہ لڑکا میرے پہلے شوہر سے ہے اس کے پیدا ہونے کے بعد میں نے تجھ سے نکاح کیا اور شوہر کہتا ہے کہ میر ا ہے میرے نکاح میں پیدا ہوا تو شوہر کا قول معتبر ہے۔(2) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۱۴: کسی عورت سے زنا کیا پھر اُس سے نکاح کیا اور چھ مہینے یا زائد میں بچہ پیدا ہوا تو نسب ثابت ہے اور کم میں ہوا تو نہیں اگرچہ شوہر کہے کہ یہ زنا سے میر ا بیٹا ہے۔ (3)(عالمگيری) 

    مسئلہ ۱۵: نسب کا ثبوت اشارہ سے بھی ہوسکتا ہے اگرچہ بولنے پر قادر ہو۔(4) (عالمگيری) 

    مسئلہ ۱۶: کسی نے اپنے نا بالغ لڑکے کا نکاح کسی عورت سے کر دیا اور لڑکا اتنا چھوٹا ہے کہ نہ جماع کر سکتا ہے نہ اُس سے حمل ہو سکتا ہے اور عورت کے بچہ پیدا ہوا تو نسب ثابت نہیں اور اگر لڑکا مراہق (5)ہے اور اُس کی عورت سے بچہ پیدا ہوا تو نسب ثابت ہے۔ (6)(عالمگيری) 

    مسئلہ ۱۷: اپنی کنیز سے وطی کرتا ہے اور بچہ پید ا ہوا تو اُس کا نسب اُس وقت ثابت ہوگا کہ یہ اقرار کرے کہ میرا بچہ ہے اور وہ لونڈی ام ولد ہوگئی اب اس کے بعد جو بچے پیدا ہونگے اُن میں اقرار کی حاجت نہیں مگر یہ ضرور ہے کہ نفی کرنے سے مُنْتَفِی ہوجائے گا مگر نفی سے اُس وقت منتفی ہوگا کہ زیادہ زمانہ نہ گزرا ہو نہ قاضی نے اُس کے نسب کا حکم دیدیا ہواور ان میں کوئی بات پائی گئی تو نفی نہیں ہو سکتی۔ اور مدبرہ کے بچہ کا نسب بھی اقرار سے ثابت ہوگا۔ منکوحہ کے بچہ کا نسب ثابت ہونے کے ليے اقرار کی حاجت نہیں بلکہ انکار کی صورت میں لعان کرنا ہوگا اور جہاں لعان نہیں وہاں انکار سے بھی کام نہ چلے گا۔ (7)(عالمگیری، ردالمحتار)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب الخامس عشر في ثبوت النسب،ج۱،ص۵۳۹،وغیرہ.

2۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب الخامس عشر في ثبوت النسب،ج۱،ص۵۴۰.

3۔۔۔۔۔۔المرجع السابق.         4۔۔۔۔۔۔المرجع السابق.

5۔۔۔۔۔۔بالغ ہونے کے قریب۔

6۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب الخامس عشر في ثبوت النسب،ج۱،ص۵۴۰.

7۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب الخامس عشر في ثبوت النسب،ج۱،ص۵۳۶.

و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب العدۃ،فصل في ثبوت النسب،مطلب:الفراش علی اربع مراتب،ج۵،ص۲۵۱.
Flag Counter