Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8)
250 - 282
توفاسق ہے اور اُس کی گواہی مردود۔ (1)(درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۹: شوہر بچہ پیدا ہونے کااقرار کرتا ہے مگر کہتا ہے کہ یہ بچہ نہیں ہے تو اُس کے ثبوت کے ليے جنائی کی شہادت کافی ہے۔(2) (درمختار) 

    مسئلہ ۱۰: عدتِ وفات میں بچہ پیدا ہوا اور بعض ورثہ نے تصدیق کی تو اس کے حق میں نسب ثابت ہوگیا پھر اگر یہ عادل ہے اور اسکے ساتھ کسی اور وارث قابلِ شہادت نے بھی تصدیق کی یا کسی اجنبی نے شہادت دی تو ورثہ اور غیر سب کے حق میں نسب ثابت ہوگيا یعنی مثلاً اگر اس لڑکے نے دعویٰ کیا کہ میرے باپ کے فلاں شخص پر اتنے روپے دَین ہیں تو دعویٰ سُننے کے ليے اسکی حاجت نہیں کہ وہ اپنا نسب ثابت کرے اور اگر تنہا ایک وارث تصدیق کرتا ہے یا چند ہوں مگر وہ عادل نہ ہوں تو فقط ان کے حق میں ثابت ہے اوروں کے حق میں ثابت نہیں یعنی مثلاً اگر دیگر ورثہ اس صورت میں انکار کرتے ہوں تو اولاد ہونے کی وجہ سے ان کے حصوں میں کوئی کمی نہ ہوگی اور وارث اگر تصدیق کریں تو ان کے ليے اقرار کرنے میں لفظ ِشہادت اور مجلس ِقاضی وغیرہ کچھ شرط نہیں مگر اوروں کے حق میں ان کا اقرار اُس وقت مانا جائیگا جب عادل ہوں ہاں اگر اس وارث کے ساتھ کوئی غیر وارث ہے تو اُس کا فقط یہ کہہ دینا کافی نہ ہوگا کہ یہ فلاں کا لڑکا ہے بلکہ لفظِ شہادت اور مجلسِ حکم وغیرہ و ہ سب امور جوشہادت میں شرط ہیں، اس کے ليے شرط ہیں۔ (3)(درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۱۱: بچہ پیدا ہوا عورت کہتی ہے کہ نکاح کو چھ مہینے یا زائد کا عرصہ گزرا اور مرد کہتا ہے کہ چھ مہینے نہیں ہوئے توعورت کو قسم کھلائیں، قسم کے ساتھ اس کا قول معتبر ہے اور شوہر یا اس کے ورثہ گواہ پیش کرنا چاہیں تو گواہ نہ سنے جائیں۔ (4)(درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۱۲: کسی لڑکے کی نسبت کہا یہ میرا بیٹا ہے اور اُس شخص کا انتقال ہوگيا اور اُس لڑکے کی ماں جس کا حرہ و مسلمہ ہونامعلوم ہے یہ کہتی ہے کہ میں اُس کی عورت ہوں اور یہ اُسکا بیٹا تو دونوں وارث ہونگے اور اگر عورت کا آزاد ہونا مشہور نہ ہو یاپہلے وہ باندی تھی اور اب آزاد ہے اور یہ نہیں معلوم کہ علوق کے وقت آزاد تھی یا نہیں اور ورثہ کہتے ہیں تو اُس کی ام ولد تھی تووارث نہ ہوگی۔ یوہیں اگر ورثہ کہتے ہیں کہ تو اُس کے مرنے کے وقت نصرانیہ تھی اور اُس وقت اُس عورت کا مسلمان
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،فصل في ثبوت النسب،مطلب:في ثبوت النسب من الصغیرۃ،ج۵،ص۲۴۲.

2۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،فصل في ثبوت النسب،ج۵،ص۲۴۳.

3۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،فصل في ثبوت النسب،مطلب:في ثبوت النسب من الصغیرۃ،ج۵،ص۲۴۴.

4۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۲۴۵.
Flag Counter