Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8)
249 - 282
سکوت سے بھی نسب ثابت ہوگا اور اگر انکار کرے تو نفی نہ ہوگی جب تک لعان نہ ہو او ر اگر کسی وجہ سے لعان نہ ہوسکے جب بھی ثابت ہوگا۔(1) (عالمگيری) 

    مسئلہ ۵: نابالغہ کو اُس کے شوہر نے بعدِ دخول طلاقِ رجعی دی اور اُس نے حاملہ ہونا ظاہر کیا تو اگر ستائیس مہینے کے اندر بچہ پیدا ہوا تو ثابت النسب ہے اور طلاق بائن میں دو برس کے اندر ہوگاتو ثابت ہے ورنہ نہیں اور اگر اُس نے عدت پوری ہونیکا اقرار کیا ہے تو وقتِ اقرار سے چھ مہینے کے اندر ہوگا تو ثابت ہے ورنہ نہیں اور اگر نہ حاملہ ہونا ظاہر کیا نہ عدت پوری ہونے کا اقرار کیا بلکہ سکوت کیا تو سکوت کا وہی حکم ہے جو عدت پوری ہونے کے اقرار کا ہے۔(2) (عالمگيری) 

    مسئلہ ۶: شوہر کے مرنے کے وقت سے دو۲برس کے اندر بچہ پیدا ہوگا تونسب ثابت ہے، ورنہ نہیں۔ یہی حکم صغیرہ کا ہے جبکہ حمل کا اقرار کرتی ہو اور اگر عورت صغیرہ ہے جس نے نہ حمل کا اقرار کیا، نہ عدت پوری ہونے کا اور دس مہینے دس دن سے کم میں ہوا تو ثابت ہے ورنہ نہیں اور اگر عدت پوری ہونے کا اقرار کیا اور وقت اقرار یعنی چارمہینے دس دن کے بعد اگر چھ مہینے کے اندر پیدا ہوا تو ثابت ہے، ورنہ نہیں۔ (3)(درمختار) 

    مسئلہ ۷: عورت نے عدتِ وفات میں پہلے یہ کہا مجھے حمل نہیں پھر دوسرے دن کہا حمل ہے تو اُس کا قول مان لیا جائیگا اور اگر چار مہینے دس دن پورے ہونے پر کہا کہ حمل نہیں ہے پھر حمل ظاہر کیا تو اُس کا قول نہیں مانا جائیگا مگر جبکہ شوہر کی موت سے چھ مہینے کے اندر بچہ پیدا ہو تو اُس کا وہ اقرار کہ عدت پوری ہوگئی باطل سمجھا جائیگا۔ (4)(خانیہ) 

    مسئلہ ۸: طلاق یا موت کے بعد دو۲برس کے اندر بچہ پیدا ہوا اور شوہر یا اُس کے ورثہ بچہ پیداہونے سے انکار کرتے ہیں اور عورت دعویٰ کرتی ہے تو اگر حمل ظاہر تھا یا شوہر نے حمل کا اقرار کیا تھا تو ولادت ثابت ہے اگرچہ جنائی(5) بھی شہادت نہ دے اور وہ ثابت النسب ہے اور اگر نہ حمل ظاہر تھا نہ شوہر نے حمل کا اقرار کیا تھا تو اُس وقت ثابت ہوگا کہ دو مرد یا ایک مرد، دو عورت گواہی دیں۔ اور مرد کس طرح گواہی دیں گے اس کی صورت یہ ہے کہ عورت تنہا مکان میں گئی اور اُس مکان میں کوئی ایسا بچہ نہ تھا اور بچہ ليے ہوئے باہر آئی یا مرد کی نگاہ اچانک پڑگئی دیکھا کہ اُس کے بچہ پیدا ہورہا ہے اور قصد اً نگاہ کی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب الخامس عشر في ثبوت النسب،ج۱،ص۵۳۶. 

2۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب الخامس عشر في ثبوت النسب،ج۱،ص۵۳۷.

3۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،فصل في ثبوت النسب،ج۵،ص۲۴۰.

4۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الطلاق،باب العدۃ،فصل فی النسب،ج۲،ص۲۷۴.

5۔۔۔۔۔۔دائی، بچہ جنانے والی۔
Flag Counter