یاچوروں کاخوف ہو، مال تلف (1)ہو جانے کا اندیشہ ہے یا آبادی کے کنارے مکان ہے اور مال وغیرہ کا اندیشہ ہے تو ان صورتوں میں مکان بدل سکتی ہے۔ اور اگر کرایہ کا مکان ہواور کرایہ دے سکتی ہے یا ورثہ کو کرایہ دے کر رہ سکتی ہے تو اُسی میں رہنا لازم ہے۔ اور اگر حصہ اتنا ملا کہ اس کے رہنے کے ليے کافی ہے تو اُسی میں رہے اور دیگر ورثہ شوہر جن سے پردہ فرض ہے اُن سے پردہ کرے اور اگر اُس مکان میں نہ چور کا خوف ہے نہ پروسیوں کا مگر اُس میں کوئی اور نہیں ہے اور تنہا رہتے خوف کرتی ہے تو اگر خوف زیادہ ہو مکان بدلنے کی اجازت ہے ورنہ نہیں اور طلاق بائن کی عدت ہے اور شوہر فاسق ہے اور کوئی وہاں ایسا نہیں کہ اگر اُس کی نیت بد ہو تو روک سکے ایسی حالت میں مکان بدل دے۔ (2)(عالمگیری ، درمختار وغیرہما)
مسئلہ ۱۹: وفات کی عدت میں اگر مکان بدلنا پڑے تو اُس مکان سے جہاں تک قریب کا میسر آسکے اُسے لے اور عدت طلاق کی ہو تو جس مکان میں شوہر اُسے رکھنا چاہے اور اگر شوہر غائب ہے تو عورت کو اختیار ہے۔ (3)(عالمگيری)
مسئلہ ۲۰: جب مکان بدلا تو دوسرے مکان کا وہی حکم ہے جو پہلے کا تھا یعنی اب اس مکان سے باہر جانے کی اجازت نہیں مگر عدتِ وفات میں بوقتِ حاجت بقدرِ حاجت جس کا ذکر پہلے ہوچکا۔(4) (عالمگيری)
مسئلہ ۲۱: طلاقِ بائن کی عدت میں یہ ضروری ہے کہ شوہر و عورت میں پردہ ہو یعنی کسی چیزسے آڑ کر دی جائے کہ ایک طرف شوہر رہے اور دوسری طرف عورت۔ عورت کا اُسکے سامنے اپنا بدن چھپانا کافی نہیں اس واسطے کہ عورت اب اجنبیہ ہے اور اجنبیہ سے خلوت جائز نہیں بلکہ یہاں فتنہ کا زیادہ اندیشہ ہے اور اگر مکان میں تنگی ہو اتنا نہیں کہ دونوں الگ الگ رہ سکیں تو شوہر اُتنے دنوں تک مکان چھوڑدے، یہ نہ کرے کہ عورت کو دوسرے مکان میں بھیج دے اور خود اس میں رہے کہ عورت کو مکان بدلنے کی بغیر ضرورت اجازت نہیں اور اگر شوہر فاسق ہو تو اُسے حکماً اُس مکان سے علیحدہ کر دیا جائے اور اگر نہ نکلے تو اُس مکان میں کوئی ثقہ (5)عورت رکھ دی جائے جو فتنہ کے روکنے پر قادر ہو اور اگررجعی کی عدت ہو تو پردہ کی کچھ حاجت نہیں اگرچہ شوہر فاسق ہو کہ یہ نکاح سے باہر نہ ہوئی۔ (6)(درمختار، ردالمحتار)