مسئلہ ۱۴: اگر کرایہ کے مکان میں رہتی تھی جب بھی مکان بدلنے کی اجازت نہیں شوہر کے ذمہ زمانہ عدت کا کرایہ ہے اور اگر شوہر غائب ہے اور عورت خود کرایہ دے سکتی ہے جب بھی اُسی میں رہے۔ (1)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱۵: موت کی عدت میں اگر باہر جانے کی حاجت ہو کہ عورت کے پاس بقدر کفایت مال نہیں اور باہر جا کر محنت مزدوری کرکے لائیگی تو کام چلے گا تو اسے اجازت ہے کہ دن میں اور رات کے کچھ حصے میں باہر جائے اور رات کا اکثر حصہ اپنے مکان میں گزارے مگر حاجت سے زیادہ باہر ٹھہرنے کی اجازت نہیں۔ اور اگر بقدر کفایت اس کے پاس خرچ موجود ہے تو اسے بھی گھر سے نکلنا مطلقاً منع ہے اور اگر خرچ موجود ہے مگر باہر نہ جائے تو کوئی نقصان پہنچے گا مثلاً زراعت کا کوئی دیکھنے بھالنے والا نہیں اور کوئی ایسا نہیں جسے اس کام پر مقرر کرے تو اس کے ليے بھی جاسکتی ہے مگر رات کو اُسی گھر میں رہنا ہوگا۔ (2)(درمختار ، ردالمحتار) یوہیں کوئی سودالانے والا نہ ہو تو اس کے ليے بھی جاسکتی ہے۔
مسئلہ ۱۶: موت یا فرقت(3) کے وقت جس مکان میں عورت کی سکونت(4) تھی اُسی مکان میں عدت پوری کرے اور یہ جو کہا گیاہے کہ گھر سے باہر نہیں جاسکتی اس سے مراد یہی گھر ہے اور اس گھر کو چھوڑکر دوسرے مکان میں بھی سکونت نہیں کرسکتی مگر بضرورت اور ضرورت کی صورتیں ہم آگے لکھیں گے آج کل معمولی باتوں کو جس کی کچھ حاجت نہ ہو محض طبیعت کی خواہش کو ضرورت بولا کرتے ہیں وہ یہاں مراد نہیں بلکہ ضرورت وہ ہے کہ اُس کے بغیر چارہ نہ ہو۔
مسئلہ ۱۷: عورت اپنے میکے گئی تھی یا کسی کام کے ليے کہیں اور گئی تھی اُس وقت شوہر نے طلاق دی یا مر گیا تو فوراً بلا توقف وہاں سے واپس آئے۔(5) (عالمگيری)
مسئلہ ۱۸: جس مکان میں عدت گزارنا واجب ہے اُس کو چھوڑ نہیں سکتی مگر اُس وقت کہ اسے کوئی نکال دے مثلاًطلاق کی عدت میں شوہر نے گھر میں سے اس کو نکال دیا، یا کرایہ کامکان ہے اور عدت عدتِ وفات ہے مالک مکان کہتا ہے کہ کرایہ دے یا مکان خالی کر اور اس کے پاس کرایہ نہیں یا وہ مکان شوہر کا ہے مگر اس کے حصہ میں جتنا پہنچا وہ قابل سکونت نہیں اورورثہ اپنے حصہ میں اسے رہنے نہیں دیتے یا کرایہ مانگتے ہیں اور پاس کرایہ نہیں یا مکان ڈھ رہا ہو (6)یا ڈِھْنے کا خوف ہو