مسئلہ ۲۲: تین طلاق کی عدت کا بھی وہی حکم ہے جو طلاق بائن کی عدت کا ہے۔ زن و شواگر بڑھیا بوڑھے ہوں اور فرقت واقع ہوئی اور اُن کی اولادیں ہوں جنکی مفارقت گوار انہ ہو تو دونوں ایک مکان میں رہ سکتے ہیں جبکہ زن وشو کی طرح نہ رہتے ہوں۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۲۳: سفر میں شوہر نے طلاق بائن دی یا اُس کا انتقال ہوا اب وہ جگہ شہر ہے یا نہیں اور وہاں سے جہاں جانا ہے مدتِ سفر ہے یا نہیں اور بہر صورت مکان مدتِ سفر ہے یا نہیں اگر کسی طرف مسافت سفر نہ ہو تو عورت کو اختیار ہے وہاں جائے یا گھر واپس آئے اُسکے ساتھ محرم ہو یا نہ ہو مگر بہتر یہ ہے کہ گھر واپس آئے اور اگر ایک طرف مسافتِ سفر ہے اور دوسری طرف نہیں تو جدھر مسافتِ سفر نہ ہو اُس کو اختیار کرے اور اگر دونوں طرف مسافتِ سفر ہے اور وہاں آبادی نہ ہو تو اختیار ہے جائے یا واپس آئے ساتھ میں محرم ہو یانہ ہو اور بہتر گھر واپس آنا ہے اور اگر اس وقت شہر میں ہے تو وہیں عدت پوری کرے محرم یا بغیر محرم نہ ادھر آسکتی ہے نہ اُدھر جاسکتی اور اگر اس وقت جنگل میں ہے مگر راستہ میں گاؤں یا شہر ملے گا اور وہاں ٹھہر سکتی ہے کہ مال یا آبرو کا اندیشہ نہیں اور ضرورت کی چیزیں وہاں ملتی ہوں تو وہیں عدت پوری کرے پھر محرم کے ساتھ وہاں سے سفر کرے۔(2)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: عورت کو عدت میں شوہر سفر میں نہیں لیجاسکتا، اگرچہ وہ رجعی کی عدت ہو۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۲۵: رجعی کی عدت کے وہی احکام ہیں جو بائن کے ہیں مگر اس کے ليے سوگ نہیں اور سفر میں رجعی طلاق دی تو شوہر ہی کے ساتھ رہے اور کسی طرف مسافت سفر (4) ہے تو اُدھر نہیں جاسکتی۔(5) (درمختار)