کپڑے پہن سکتی ہے۔ یا اُس کے پاس اور کپڑا نہیں ہے تو یہی ریشمی یا رنگا ہوا پہنے مگر یہ ضرور ہے کہ ان کی اجازت ضرورت کے وقت ہے لہٰذا بقدر ضرورت اجازت ہے ضرورت سے زیادہ ممنوع مثلاًآنکھ کی بیماری میں سرمہ لگانیکی ضرورت ہو تو یہ لحاظ ضروری ہے کہ سیاہ سرمہ اُس وقت لگاسکتی ہے جب سفید سرمہ سے کام نہ چلے اور اگر صرف رات میں لگانا کافی ہے تو دن میں لگانے کی اجازت نہیں۔ (1)(عالمگیری ، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴: سوگ اُس پر ہے جو عاقلہ بالغہ مسلمان ہواور موت یا طلاق بائن کی عدت ہو اگرچہ عورت باندی ہو۔ شوہر کے عنّین ہونے یا عضو تناسل کے کٹے ہونے کی وجہ سے فرقت ہوئی تو اُس کی عدت میں بھی سوگ واجب ہے۔ (2)(درمختار ، عالمگیری)
مسئلہ ۵: طلاق دینے والا سوگ کرنے سے منع کرتا ہے یا شوہر نے مرنے سے پہلے کہدیا تھا کہ سوگ نہ کرنا جب بھی سوگ کرنا واجب ہے۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۶: نابالغہ و مجنونہ و کا فرہ پر سوگ نہیں۔ ہاں اگر اثنائے عدت میں نابالغہ بالغہ ہوئی مجنونہ کا جنون جاتا رہا اورکافرہ مسلمان ہوگئی تو جو دن باقی رہ گئے ہیں اُن میں سوگ کرے۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ ۷: ام ولد کو اُس کے مولیٰ نے آزاد کر دیا یا مولیٰ کا انتقال ہوگيا تو عدت بیٹھے گی مگر اس عدت میں سوگ واجب نہیں۔ یوہیں نکاح فاسد اور وطی بالشبہہ اور طلاق رجعی کی عدت میں سوگ نہیں۔(5) (جوہرہ، عالمگیری)
مسئلہ ۸: کسی قریب کے مرجانے پر عورت کو تین دن تک سوگ کرنے کی اجازت ہے اس سے زائد کی نہیں اور عورت شوہر والی ہو تو شوہر اس سے بھی منع کرسکتا ہے۔ (6)(ردالمحتار)
مسئلہ ۹: کسی کے مرنے کے غم میں سیاہ کپڑے پہننا جائز نہیں مگر عورت کو تین دن تک شوہر کے مرنے پر غم کی وجہ