Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8)
241 - 282
آنکھیں دُکھتی ہیں، کیا اُسے سرمہ لگائیں؟ ارشاد فرمايا: نہیں دو یا تین بار یہی فرمايا کہ نہیں پھر فرمايا: کہ ''یہ تو یہی چار مہینے دس دن ہیں اور جاہلیت میں تو ایک سال گزرنے پر مینگنی پھینکا کرتی تھی۔'' (1)(یہ جاہلیت کی رسم تھی کہ سال بھر کی عدت ایک جھونپڑے میں گزارتی اور نہایت ميلے کچیلے کپڑے پہنتی، جب سال پورا ہوتا تو وہاں سے مینگنی پھینکتی ہوئی نکلتی اور اب عدت پوری ہوتی)۔

    حدیث ۲: صحیحین میں ام المومنین ام حبیبہ و ام المومنین زینب بنت جحش رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمايا: جو عورت اﷲ (عزوجل) اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہے، اُسے یہ حلال نہیں کہ کسی میّت پر تین راتوں سے زیادہ سوگ کرے، مگر شوہر پر کہ چار مہینے دس دن سوگ کرے۔'' (2)

    حدیث ۳: ام عطیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: ''کوئی عورت کسی میّت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ کرے، مگر شوہر پر چار مہینے دس دن سوگ کرے اور رنگا ہوا کپڑا نہ پہنے، مگر وہ کپڑا کہ بُننے سے پہلے اُس کا سوت جگہ جگہ باندھ کر رنگتے ہیں اور سرمہ نہ لگائے اور نہ خوشبو چھوئے، مگر جب حیض سے پاک ہو تو تھوڑا سا عود استعمال کرسکتی ہے۔'' اور ابو داود کی روایت میں یہ بھی ہے کہ منہدی نہ لگائے۔ (3)

    حدیث ۴: ابوداود و نسائی نے ام المو منین ام سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمايا: ''جس عورت کا شوہر مر گیا ہے، وہ نہ کسم کا رنگا ہوا کپڑا پہنے اور نہ گیرو کا رنگا ہوا اور نہ زیور پہنے اور نہ مہندی لگائے اور نہ سُرمہ۔'' (4)

    حدیث ۵: ابوداودو نسائی اُنھیں سے راوی، کہ جب میرے شوہر ابوسلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی وفات ہوئی، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) میرے پاس تشریف لائے۔ اُس وقت میں نے مصبر (ایلوہ) لگا رکھا تھا، فرمايا: ''ام سلمہ یہ کیا ہے؟'' میں نے عرض کی، یہ ایلوہ ہے اس میں خوشبو نہیں۔ فرمايا: ''اس سے چہرہ میں خوبصورتی پیدا ہوتی ہے، اگر لگانا ہی ہے تو رات میں لگا لیا کرو اور دن میں صاف کر ڈالا کرو اور خوشبو اور مہندی سے بال نہ سنوارو۔'' میں نے عرض کی، کنگھا کرنے کے ليے کیا چیز سر پر لگاؤں؟ فرمايا: کہ ''بیری کے پتّے سر پر تھوپ لیا کرو پھر کنگھا کرو۔'' (5)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الطلاق، باب تحد المتوفي عنھا... إلخ، الحدیث: ۵۳۳۶،ج۳، ص۵۰۶.

2۔۔۔۔۔۔''صحیح البخاري''، کتاب الجنائز، باب حد المرأۃ علی غیر زوجھا، الحدیث: ۱۲۸۱،۱۲۸۲،ج۱، ص۴۳۳.

3۔۔۔۔۔۔''صحیح مسلم''، کتاب الطلاق، باب وجوب الاحداد في عدۃ الوفاۃ... إلخ، الحدیث:۱۴۹۱، ص۷۹۹. 

''سنن أبي داود''، کتاب الطلاق، باب فیما تجتنبہ المعتدۃ في عدتھا، الحدیث: ۲۳۰۲، ج۲،ص۴۲۵. 

4۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الطلاق، باب فیما تجتنبہ المعتدۃ في عدتھا، الحدیث: ۲۳۰۴،ج۲، ص۴۲۵.

5۔۔۔۔۔۔''سنن أبي داود''، کتاب الطلاق، باب فیما تجتنبہ المعتدۃ في عدتھا، الحدیث: ۲۳۰۵، ج۲،ص۴۲۵.
Flag Counter