| بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8) |
عدت بیٹھے۔ یوہیں اگرپہلا نکاح فاسد تھا اور دخول کے بعد تفریق ہوئی اور عدت کے اندر نکاح صحیح کر کے طلاق دیدی یا دخول کے بعد کفو نہ ہونے کی وجہ سے تفریق ہوئی پھر نکاح کر کے طلاق دی یا نابالغہ سے نکاح کرکے وطی کی پھر طلاق دی اور عدت کے اندر نکاح کیا اب وہ لڑکی بالغہ ہوئی اور اپنے نفس کو اختیار کیا یا نا بالغہ سے نکاح کر کے وطی کی پھر لڑکی نے بالغہ ہوکر اپنے کو اختیار کیا اور عدت کے اندر پھر اُس سے نکاح کیااور قبلِ دخول طلاق دیدی ان سب صورتوں میں دوسرے نکاح کا پورا مَہراور طلاق کے بعد عدت واجب ہے، اگرچہ دوسرے نکاح کے بعد وطی نہیں ہوئی کہ نکاح اول کی وطی نکاح ثانی میں بھی وطی قرار دی جائیگی۔ (1)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۵: بچہ پیدا ہونے کے بعد عورت کو طلاق دی تو جب تک اُسے تین حیض نہ آلیں دوسرے سے نکاح نہیں کرسکتی یا سن ایاس کو پہنچ کر مہینوں سے عدت پوری کرے اگرچہ بچہ پیدا ہونے سے قبل اُسے حیض نہ آیا ہو۔(2) (درمختار)سوگ کا بیان
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
(وَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمْ فِیۡمَا عَرَّضْتُمۡ بِہٖ مِنْ خِطْبَۃِ النِّسَآءِ اَوْ اَکْنَنۡتُمْ فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمْ ؕ عَلِمَ اللہُ اَنَّکُمْ سَتَذْکُرُوۡنَہُنَّ وَلٰـکِنۡ لَّا تُوَاعِدُوۡہُنَّ سِرًّا اِلَّاۤ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا قَوْلًا مَّعْرُوۡفًا ۬ؕ وَلَا تَعْزِمُوۡا عُقْدَۃَ النِّکَاحِ حَتّٰی یَبْلُغَ الْکِتٰبُ اَجَلَہٗ ؕ وَاعْلَمُوۡۤا اَنَّ اللہَ یَعْلَمُ مَا فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمْ فَاحْذَرُوۡہُ ۚ وَاعْلَمُوۡۤا اَنَّ اللہَ غَفُوۡرٌ حَلِیۡمٌ ﴿۲۳۵﴾٪ ) (3)
اور تم پر گناہ نہیں اس میں کہ اشارۃً عورتوں کے نکاح کا پیغام دویا اپنے دل میں چھپا رکھو، اﷲ (عزوجل) کو معلوم ہے کہ تم اُن کی یاد کروگے ہاں اُن سے خفیہ وعدہ مت کر و مگر یہ کہ اُتنی ہی بات کروجو شرع کے موافق ہے۔ اور عقد نکاح کا پکا ارادہ نہ کر و جب تک کتاب کا حکم اپنی میعاد کو نہ پہنچ جائے اور جان لو کہ اﷲ (عزوجل) اُس کو جانتا ہے جو تمھارے دلوں میں ہے تو اُس سے ڈرو اورجان لو کہ اﷲ (عزوجل) بخشنے والا، حلم والا ہے۔
حدیث ۱: صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی، کہ ایک عورت نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ میری بیٹی کے شوہر کی وفات ہوگئی (یعنی و ہ عدت میں ہے) اور اُس کیــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب العدۃ، مطلب: فی وطء المعتدۃ بشبھۃ ، ج۵، ص۲۱۲. 2۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، المرجع السابق، ص۲۱۷. 3۔۔۔۔۔۔پ۲، البقرۃ: ۲۳۵.