Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8)
239 - 282
وضعِ حمل ہے اور بچہ ثابت النسب ہے۔(1) (جوہرہ) 

    مسئلہ ۳۰: عورت کو طلاقِ رجعی دی تھی اور عدت میں مر گیا تو عورت موت کی عدت پوری کرے اور طلاق کی عدت جاتی رہی خواہ صحت کی حالت میں طلاق دی ہو یا مرض میں۔ اور اگر بائن طلاق دی تھی یا تین تو طلاق کی عدت پوری کرے جبکہ صحت میں طلاق دی ہو اور اگر مرض میں دی ہو تو دونوں عدتیں پوری کرے یعنی اگر چار مہینے دس دن میں تین حیض پورے ہو چکے تو عدت پوری ہوچکی اور اگر تین حیض پورے ہوچکے ہیں مگر چار مہینے دس دن پورے نہ ہوئے تو ان کو پورا کرے اور اگر یہ دن پورے ہوگئے مگر ابھی تین حیض پورے نہ ہوئے تو ان کے پورے ہونے کا انتظار کرے۔(2) (عامہ کتب) 

    مسئلہ ۳۱: عورت کنیز تھی اُسے رجعی طلاق دی اور عدت کے اندر آزاد ہوگئی تو حرہ کی عدت پوری کرے یعنی تین حیض یا تین مہینے اور طلاقِ بائن یا موت کی عدت میں آزاد ہو ئی توباندی کی عدت یعنی دو حیض یا ڈیڑھ مہینہ یا دومہینے پانچ دن۔(3)(درمختار) 

    مسئلہ ۳۲: عورت کہتی ہے کہ عدت پوری ہوچکی اگر اتنا زمانہ گزرا ہے کہ پوری ہو سکتی ہے تو قسم کے ساتھ اُس کا قول معتبر ہے اور اگر اتنا زمانہ نہیں گزرا تو نہیں۔ مہینوں سے عدت ہو جب تو ظاہر ہے کہ اُتنے دن گزرنے پر عدت ہو چکی اور حیض سے ہو توآزاد عورت کے ليے کم از کم ساٹھ دن ہیں اور لونڈی کے ليے چالیس بلکہ ایک روایت میں حرہ کے ليے اُنتالیس دن کہ تین حیض کی اقل(4) مدت نو دن ہے اور دو طہر کی تیس دن اور باندی کے ليے اکیس دن کہ دو حیض کے چھ دن اور ایک طہر درمیان کا پندرہ دن۔(5) (درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۳۳: مطلقہ کہتی ہے کہ عدت پوری ہوگئی کہ حمل تھا ساقط ہوگيا اگر حمل کی مدت اتنی تھی کہ اعضا بن چکے تھے تو مان لیا جائیگا ورنہ نہیں مثلاً نکاح سے ایک مہینے بعد طلاق دی اور طلاق کے ایک ماہ بعد حمل ساقط ہونا بتاتی ہے تو عدت پوری نہ ہوئی کہ بچے کے اعضا چار ماہ میں بنتے ہیں۔(6) (ردالمحتار) 

    مسئلہ ۳۴: اپنی عورت مطلقہ سے عدت میں نکاح کیا اور قبل وطی طلاق دیدی تو پورامہر واجب ہوگا اور سرے سے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب العدۃ، الجزء الثاني، ص۱۰۰.

2۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الثالث عشر في العدۃ، ج۱، ص۵۳۰.

3۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب العدۃ، ج۵، ص۱۹۶.

4۔۔۔۔۔۔کم سے کم۔

5۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطلاق، باب العدۃ، مطلب: فی وطء المعتدۃبشبہۃ ،ج۵، ص۲۱۰.

6۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، المرجع السابق، ص۲۱۱.
Flag Counter