مسئلہ ۲۳: عورت کنیز ہے تو اُس کی عدت دو ۲مہینے پانچ دن ہے شوہر آزاد ہو یا غلام کہ عدت میں شوہر کے حال کالحاظ نہیں بلکہ عورت کے اعتبار سے ہے پھر موت پہلی تاریخ کو ہو تو چاند سے مہینے ليے جائیں ورنہ حرہ کے ليے ایک سوتیس دن اور باندی کے ليے پینسٹھ دن۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۲۴: عورت حامل ہے توعدت وضع حمل ہے عورت حرہ ہو یا کنیز مسلمہ ہو یا کتا بیہ عدت طلاق کی ہو یا وفات کی یا متارکہ یا وطی بالشبہہ کی حمل ثابت النسب ہو یا زنا کا مثلاًزانیہ حاملہ سے نکاح کیا اور شوہر مرگیا یا وطی کے بعد طلاق دی تو عدت وضعِ حمل ہے۔ (2)(درمختار، عالمگیری وغیرہما)
مسئلہ ۲۵: وضعِ حمل سے عدت پوری ہونے کے ليے کوئی خاص مدت مقرر نہیں موت یا طلاق کے بعد جس وقت بچہ پیدا ہو عدت ختم ہوجائے گی اگرچہ ایک منٹ بعد حمل ساقط ہوگيا اور اعضابن چکے ہیں عدت پوری ہوگئی ورنہ نہیں اور اگر دو یا تین بچے ایک حمل سے ہوئے تو پچھلے کے پیدا ہونے سے عدت پوری ہوگی۔(3) (جوہرہ)
مسئلہ ۲۶: بچہ کا اکثر حصہ باہر آچکا تو رجعت نہیں کر سکتا مگر دوسرے سے نکاح اُس وقت حلال ہو گا کہ پورا بچہ پیدا ہولے۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲۷: موت کے بعد اگر حمل قرار پایا تو عدت وضعِ حمل سے نہ ہوگی بلکہ دنوں سے۔(5) (جوہرہ)
مسئلہ ۲۸: بارہ برس سے کم عمر والے کا انتقال ہوا اور اُس کی عورت کے چھ مہینے سے کم کے اندر بچہ پیدا ہوا تو عدت وضعِ حمل ہے اور چھ مہینے یا زائد میں ہوا تو چار مہینے دس دن اور نسب بہر حال ثابت نہ ہوگا۔ اور اگر شوہر مراہق ہو تو دونوں صورت میں وضعِ حمل سے عدت پوری ہوگی اور بچہ ثابت النسب ہے۔ (6)(جوہرہ ، درمختار)
مسئلہ ۲۹: جو شخص خصی تھا اُس کا انتقال ہوا اور اُس کی عورت حاملہ ہے یا مرنے کے بعد حاملہ ہونا معلوم ہوا تو عدت