Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8)
237 - 282
    مسئلہ ۱۹: وطی بالشبہہ کی چند صورتیں ہیں : 

    (۱) عورت عدت میں تھی اور شوہر کے سواکسی اور کے پاس بھیج دی گئی اور یہ ظاہر کیا گیا کہ تیری عورت ہے اُس نے وطی کی بعد کو حال کھُلا۔ 

    (۲) عورت کو تین طلاقیں دیکر بغیر حلالہ اُس سے نکاح کرلیا اور وطی کی۔ 

    (۳) عورت کو تین طلاقیں دیکر عدت میں وطی کی اور کہتا ہے کہ میرا گمان یہ تھا کہ اس سے وطی حلال ہے۔ 

    (۴) مال کے عوض یا لفظ کنایہ سے طلاق دی اور عدت میں وطی کی۔ 

    (۵) خاوند والی عورت تھی اور شبہۃًاُس سے کسی اور نے وطی کی پھر شوہر نے اُس کو طلاق دیدی ان سب صورتوں میں عورت پر دو عدتیں ہیں اور بعد تفریق دوسری عدت پہلی عدت میں داخل ہو جائے گی یعنی اب جو حیض آئیگا دونوں عدتوں میں شمار ہوگا۔ (1)(جوہرہ نیرہ) 

    مسئلہ ۲۰: مطلقہ نے ایک حیض کے بعد دوسرے سے نکاح کیا اور اس دوسرے نے اُس سے وطی کی پھر دونوں میں تفریق کر دی گئی اور تفریق کے بعد دوحیض آئے تو پہلی عدت ختم ہو گئی مگر ابھی دوسری ختم نہ ہوئی لہٰذا یہ شخص اُس سے نکاح کر سکتا ہے کوئی اور نہیں کرسکتا جب تک بعد تفریق تین حیض نہ آلیں اور تین حیض آنے پر دونوں عدتیں ختم ہو گئیں۔ (2)(عالمگيری) 

    مسئلہ ۲۱: عورت کو طلاق بائن دی تھی ایک یا دو، اور عدت کے اندر وطی کی اور جانتا تھا کہ وطی حرام ہے اور حرام ہونے کا اقرار بھی کرتا ہے تو ہر بار کی وطی پر عدت ہے مگر سب متداخل ہونگی اور تین طلاقیں دے چکا ہے اور عدت میں وطی کی اور جانتا ہے کہ وطی حرام ہے اور مقر(3) بھی ہے تو اس وطی کے ليے عدت نہیں ہے بلکہ مرد کو رجم کا حکم ہے اور عورت بھی اقرار کرتی ہے تو اُس پر بھی۔(4) (عالمگيری) 

    مسئلہ ۲۲: موت کی عدت چار مہینے دس دن ہے یعنی دسویں رات بھی گزرلے بشرطیکہ نکاح صحیح ہو دخول ہوا ہو یا نہیں دونوں کا ایک حکم ہے اگرچہ شوہر نا بالغ ہو یا زوجہ نا بالغہ ہو۔ یوہیں اگر شوہر مسلمان تھا اور عورت کتابیہ تو اس کی بھی یہی عدت ہے مگر اس عدت میں شرط یہ ہے کہ عورت کو حمل نہ ہو۔(5) (جوہرہ وغیرہا)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ـ1۔۔۔۔۔۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب العدۃ، الجزء الثاني، ص۱۰۱.

2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الثالث عشر في العدۃ، ج۱، ص۵۳۲.

3۔۔۔۔۔۔ اقرارکرنے والا۔

4۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،المرجع السابق. 

5۔۔۔۔۔۔''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب العدۃ، الجزء الثاني، ص۹۷، وغیرہا.
Flag Counter