مسئلہ ۷: عورت کو حیض آچکا ہے مگر اب نہیں آتا اور ابھی سِن ایاس کو بھی نہیں پہنچی ہے اس کی عدت بھی حیض سے ہے جب تک تین حیض نہ آلیں یا سِن ایاس کو نہ پہنچے اس کی عدت ختم نہیں ہوسکتی اور اگر حیض آیا ہی نہ تھا اور مہینوں سے عدت گزاررہی تھی کہ اثنائے عدت میں حیض آگیا تو اب حیض سے عدت گزارے یعنی جب تک تین حیض نہ آلیں عدت پوری نہ ہوگی۔ (1)(عالمگيری)
مسئلہ ۸: حیض کی حالت میں طلاق دی تو یہ حیض عدت میں شمار نہ کیا جائے بلکہ اس کے بعد پورے تین حیض ختم ہونے پر عدت پوری ہوگی۔(2) (عامہ کتب)
مسئلہ ۹: جس عورت سے نکاح فاسد ہوا اور دخول ہو چکا ہو یا جس عورت سے شبہۃً وطی ہوئی اُس کی عدت فرقت و موت دونوں میں حیض سے ہے اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے۔ (3)(جوہرہ نیرہ) اور وہ عورت کسی کی باندی ہو تو عدت ڈیڑھ ماہ۔ (4)(عالمگيری)
مسئلہ ۱۰: اس کی عورت کسی کی کنیزہے اس نے خود خریدلی تو نکاح جاتا رہا مگر عدت نہیں یعنی اُس کو وطی کرنا جائز مگر دوسرے سے اسکا نکاح نہیں ہوسکتا جب تک دو حیض نہ گزرلیں۔ (5)(عالمگيری)
مسئلہ ۱۱: اپنی عورت کو جوکنیزتھی خریدااور ایک حیض آنے کے بعد آزاد کر دیا تو اِس حیض کے بعد دو حیض اور عدت میں رہے اور حرہ (6)کا سا سوگ کرے اور اگر ایک بائن طلاق دیکر خریدی تو ملکِ یمین (7)کی وجہ سے وطی کرسکتا ہے اور دو طلاقیں دیں تو بغیر حلالہ وطی نہیں کرسکتا اور اگر دوحیض کے بعد آزاد کردی تو نکاح کی وجہ سے عدت نہیں، ہاں عتق (8)کی وجہ سے عدت گزارے۔ (9)(عالمگيری)
مسئلہ ۱۲: جس عورت سے نابالغ نے شبہۃً یا نکاح فاسد میں وطی کی اُس پر بھی یہی عدت ہے۔ یوہیں اگر نابالغی میں خلوت ہوئی اور بالغ ہونے کے بعد طلاق دی جب بھی یہی عدت ہے۔ (10)(ردالمحتار)